8611- عن عائشة قالت: كانت امرأة مخزومية تستعير المتاع وتجحده، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقطع يدها، فأتى أهلها أسامة فكلموه، فكلم أسامة النبي صلى الله عليه وسلم فيها، فقال: يا أسامة لا أراك تكلم في حد من حدود الله، ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: إنما هلك الذين ممن كان قبلكم أنه إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف قطعوه1 والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها - فقطع يد المخزومية. "عب". مر برقم [6494] .
٨٦١١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک مخزومی سامان مانگ کرلے جاتی تھی اور پھر اس کا انکار کردیتی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمادیا، اس کے گھر والے حضرت اسامہ کے پاس آکر گفتگو کرنے لگے، اسامہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس عورت کے بارے میں (سفارشانہ) گفتگو کی، آپ نے فرمایا : اسامہ ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی کسی حد میں ( سفارشانہ) گفتگو کرتے نہ دیکھوں ، پھر آپ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ان کا کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ، اور کوئی کمزور یہ جرم کرتا اس کے ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر (بالفرض) فاطمۃ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ اسی طرح کاٹتا جس طرح مخزومی کا یاتھ کاٹا جارہا ہے۔ (عبدالرزاق، مربرقم۔ ٦٤٩٤)