8635- عن الربيع بن عميلة قال: كنا مع عمار بن ياسر، وعنده أعرابي، فذكروا المرض، فقال الأعرابي: ما مرضت قط، فقال عمار لست منا، إن المسلم يبتلى بالبلاء، فيكون كفارة خطاياه، فتتحات كما تتحات ورق الشجر، وإن الكافر يبتلى فيكون مثله كمثل البعير عقل فلا يدري لم عقل؛ ويطلق، فلا يدري لم أطلق. "كر".
٨٦٣٥۔۔۔ ربیع بن عملیہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمار بن یاسر (رض) کے ساتھ تھے، آپ کے پاس ایک اعرابی تھا، لوگوں نے بیماری کا ذکر کیا، تو اس اعرابی نے کہا : میں تو کبھی بیمار نہیں ہوا، تو حضرت عمار نے فرمایا : تم ہم میں سے نہیں مسلمان تو آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے ، جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درختوں کے پتے گرتے ہیں۔
اور کافر جب (کسی بیماری میں ) مبتلا ہوتا ہے تو اس کی مثال اونٹ کی سی ہے اسے باندھا گیا لیکن وہ جانتا نہیں کہ کیونکہ باندھا گیا اور اسے چھوڑا جاتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ کیوں کھولا گیا ہے۔ (ابن عساکر)