8641- عن عبد الله بن إياس بن أبي فاطمة عن أبيه عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان جالسا في مجلس، فقال: من يحب أن يصح فلا يسقم فابتدرناه وقلنا نحن يا رسول الله، فقال: أتحبون أن تكونوا كالحمير الصيالة؛ وتغير وجه النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال: ألا تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء وأصحاب كفارات؟ قالوا بلى يا رسول الله، قال: فوالذي نفس أبي القاسم بيده، إن الله ليبتلي المؤمن ولا يبتليه إلا لكرامته عليه، وإلا إن له عنده منزلة لا يبلغها بشيء من عمله دون أن ينزل به من البلاء ما يبلغه تلك المنزلة. ابن جرير في تهذيب الآثار.
٨٦٤١۔۔۔ عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمہ اپنے دادا سے اپنے والد کے واسطہ سے نقل کرتے ہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : کون چاہتا ہے کہ وہ صحتمندہی رہے اور بیمار نہ پڑے، تو ہم لوگوں نے پہل کی اور کہا : یارسول اللہ ! ہم چاہتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم حملہ آور گدھے کی طرح ہونا چاہتے ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنگ بدل گیا، پھر فرمایا : کیا تم مصیبت والے اور کفاروں والے نہیں ہونا چاہتے ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے بیشک اللہ تعالیٰ مومن بندے کو آزماتا ہے اور اسے اس لیے آزماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بندے کا ایک مقام ہے جسے وہ اپنے عمل سے حاصل نہیں کرسکتا ، کسی آزمائش میں پڑکرہی اس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ (ابن جریر فی تھذیب الآثار)