hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8645

.

كنز العمال

8645
Kanz al-Ummal
8645- عن أبي سعيد أنه دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو موعوك عليه قطيفة، فوضع يده عليه حرارتها فوق القطيفة، فقال أبو سعيد: ما أشد حماك يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا كذلك يشدد علينا البلاء ويضاعف لنا الأجر، فقال: يا رسول الله من أشد بلاء؟ قال الأنبياء، قال ثم من؟ قال الصالحون، لقد كان أحدهم يبتلى بالفقر حتى ما يجد إلا العباءة يجوبها فيلبسها، ويبتلى بالقمل حتى تقتله، ولأحدهم أشد فرحا بالبلاء من أحدكم بالعطاء. "هب".
٨٦٤٥۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ بخار میں مبتلا تھے آپ پر ایک چادر تھی، آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھا ےتو بخار کی حرارت چادر کے اوپر سے محسوس ہورہی تھی، تو حضرت ابوسعید (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ کو کتنا سخت بخار ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم پر ایسے ہی سختی کی جاتی ہے اور ہمیں دوگنااجر دیا جاتا ہے۔
پھر وہ عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! سب سے زیادہ آزمائش والاکون ہے ؟ آپ نے فرمایا : انبیاء (علیہم السلام) عرض کیا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : صلحاء (جو جان بوجھ کر گناہ نہیں کرتے) ان میں سے کوئی تو فقروفاقہ میں مبتلا ہوا کہ صرف ایک قبا لے کر پھرتا رہا پھر اسے پہن لیا اور کوئی جوؤں کی بیماری میں مبتلا ہوا جسے ان جوؤں نے ہلاک کردیا، ان میں سے ہر ایک آزمائش پر اس طرح خوش ہوتا جیسے تم عطا پر خوش ہوتے ہو۔ (بیھقی فی الشعب)
تشریح :۔۔۔ لیکن آج کی دنیا میں کوئی بھی اس مصیبت و آزمائش میں مبتلا نہیں ہوگا کیونکہ آج کل کے لوگوں میں اس کی اہلیت نہیں ، اس لیے آپ نے فرمایا : میری امت کے آخری لوگ فقروفاقہ میں مبتلا نہیں ہوں گے۔