8651- عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: كتب أبو عبيدة إلى عمر بن الخطاب يذكر له جموعا من الروم، وما يتخوف منهم، فكتب إليه عمر أما بعد، فإنه مهما ينزل بعبد مؤمن من شدة يجعل الله بعدها فرجا وإنه لن يغلب عسر يسرين، وإن الله تعالى يقول في كتابه: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} . مالك "ش" وابن أبي الدنيا في الفرج بعد الشدة وابن جرير "ك هب".
٨٦٥١۔۔۔ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا : حضرت ابوعبیدہ نے حضرت عمر بن خطاب کی طرف لکھا : اور خط کے مضمون میں رومی فوجوں کا تذکرہ کیا، اور وہ باتیں ذکر کیں جن سے خوف آتا تھا، تو حضرت عمر نے جواب میں لکھا : امابعد ! بات یہ ہے کہ مومن بندہ کو جب بھی کوئی سختی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بعد کشادگی پیدا فرما دیتا ہے، ہرگز ایک مشکل دوآسانیوں پر غالب نہیں آئے گی، اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : اے ایمان والو ! صبرکروصبر کی تلقین کرو، سرحدوں پر مورچہ بندرہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو یقیناً تم فلاح پاؤگے۔ (مالک ، مصنف ابن ابی شیبہ، وابن ابی الدنیا فی الفرج بعد الشدۃ وابن جریر، حاکم ، بیھقی فی الشعب)