8688- عن زيد بن أرقم قال: أصابني رمد فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما كان الغد أفاق بعض الافاقة، ثم خرج ولقيه النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: أرأيت لو أن عينيك لما بهما ما كنت صانعا؟ قال: كنت أصبر وأحتسب قال: أما والله لو كانت عيناك لما بهما ثم صبرت واحتسبت، ثم مت لقيت الله ولا ذنب لك. "هب".
٨٦٨٨۔۔۔ حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے آنکھوں کی تکلیف ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی، دوسرے دن انھیں کچھ افاقہ ہوا، چنانچہ جب آپ باہر نکلے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی، آپ نے فرمایا : اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے تو تم کیا کرو گے ؟ عرض کیا : میں صبر کرتا اور ثواب کی امید رکھتا، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے اور تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو اور پھر فوت ہوجاؤتو اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملوگے کہ تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ (بیھقی فی الشعب)