869 – "مثل المؤمن والمنافق والكافر كمثل رهط ثلاثة وقعوا إلى نهر فوقع المؤمن فقطع ثم وقع المنافق حتى إذا كاد أن يصل إلى المؤمن ناداه الكافر أن هلم إلي فإني أخشى عليك وناداه المؤمن أن هلم إلي فإن عندي وعندي يحظى له ماعنده فما زال المنافق يتردد بينهما حتى أتى عليه أذى فغرقه وإن المنافق لم يزل في شك وشبهة حتى أتى عليه الموت وهو كذلك". (ابن جرير عن قتادة مرسلا) .
٨٦٩۔۔ مومن، منافق ، اور کفر کی مثال، تین نفوس پر مشتمل ایک جماعت کی سی ہے ، جو چلتے چلتے ایک نہر تک پہنچے ، پہلے مومن نہر میں اترا اور عبور کرگیا پھر منافق نہر میں اترا، حتی کہ جب وہ مومن کے قریب پہنچنے لگا تو کافر نے آواز دی وہ میرے پاس آجا ورنہ مجھے تیری ہلاکت کا اندیشہ ہے مومن نے بھی اس کو آواز دی کہ میرے پاس یہ دوچیزیں ہیں تجھے دوں گا ادھرآجا، اب منافق حیران و پریشان دونوں کو دیکھ رہا ہے مگر کوئی فیصلہ نہیں کر پارہا وہ اسی پریشانی میں تھا کہ ایک موج نے آکر اس کو غرق کردیا۔ تویوں منافق شک وشبہ میں رہاحتی کہ اس کو موت نے آدبوچا، یہی مثال منافق کی ہے۔ ابن جریر، بروایت قتادہ مرسلا۔