8697- قال ابن النجار في تاريخه: أخبرني يوسف بن المبارك بن كامل الخفاف، قال: أنشدنا أبو الفتح مفلح بن أحمد الرومي قال: أنشدنا أبو الحسين بن القاضي أبي القاسم التنوخي عن أبيه عن جده عن أجداده إلى علي بن أبي طالب:
أصم عن الكلم المحفظات ... وأحلم والحلم بي أشبه
وإني لأترك جل الكلام ... لكيلا أجاب بما أكره
إذا ما اجتررت سفاه السفيه ... علي فإني أنا الأسفه
فكم من فتى يعجب الناظرين ... له ألسن وله أوجه
ينام إذا حضر المكرمات ... وعند الدناءة يستنبه
٨٦٩٧۔۔۔ ابن النجار اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ مجھے یوسف بن المبارک بن کامل الخفاف نے بتایا فرماتے ہیں : ہمارے سامنے ابوالفتح مفلح بن احمد الرومی نے یہ اشعار پڑھے وہ فرماتے ہیں ہمارے سامنے ابوالحسن بن القاضی ابوالقاسم التنوخی نے وہ اپنے دادا اور اپنے اباء و اجداد سے اپنے والد کے واسطہ سے حضرت علی (رض) سے نقل کرتے ہیں۔
١۔۔۔ میں غصہ دلانے والی باتوں (کے سننے) سے بہرابن جاتا ہوں اور میں بردباری سے کام لیتا ہوں ، بردباری میرے بہت مناسب ہے۔
٢۔۔۔ میں اکثر اس لیے زیادہ گفتگو نہیں کرتا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے ناپسندیدہ جواب ملے۔
٣۔۔۔ جب میں بیوقوف کی بےوقوفی کو اپنے خلاف دہراؤں تو میں ہی بیوقوف ہوں۔
٤۔۔۔ عزت حاصل کرنے کے وقت سویا رہتا ہے اور گھٹیاپن کے وقت بیدار ہوجاتا ہے۔