8731- عن أبي غسان النهدي قال: مر أبو بكر الصديق في خلافته بطريق من طرق المدينة، فإذا جارية تطحن وهي تقول:
وهويته من قبل قطع تمائمي ... متمايسا مثل القضيب الناعم
وكأن نور البدر سنة وجهه ... يومي ويصعد في ذؤابة هاشم
فدق عليها الباب فخرجت إليه، فقال: ويلك حرة أو مملوكة؟ قالت مملوكة يا خليفة رسول الله، قال: فمن تهوين فبكت؟ فقالت: يا خليفة رسول الله إلا انصرفت عني بحق القبر، قال: لا وحقه لا أريم أو تعلميني، قالت:
وأنا التي لعب الغرام بقلبها ... فبكت لحب محمد بن القاسم
فبعث إلى مولاها، فاشتراها منه، فبعث بها إلى ابن القاسم بن جعفر بن أبي طالب. الخرائطي في اعتلال القلوب.
٨٧٣١۔۔۔ ابوغسان نہدی سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابوبکر الصدیق (رض) اپنی خلافت کے زمانہ میں مدینہ کے کسی راستہ سے گزرے ، اچانک ایک لڑکی چکی پیس رہی تھی اور کہہ رہی تھی : میں نے اسے تعویذوں سے پہلے چاہا۔ نرم ٹہنی کی طرح جھومتے ہوئے، گویا چاند کی چاندی اس کے چہرے سے حاصل ہوئی ہے، وہ اشارہ کرتی اور ہاشم کے بالوں میں چڑھتی ہے آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا ، تو وہ باہر آئی : آپ نے فرمایا : تیرا ناس ہو آزاد ہے یا لونڈی ؟ اس نے کہا : لونڈی ہوں اے رسول اللہ کے خلیفہ، آپ نے فرمایا : تو کس سے محبت کرتی ہے ؟ تو وہ روپڑی، اس نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! میں آپ کو قبر کے حق کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ لوٹ جائیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں اس قبر کے حق کی قسم ! میں نہیں ٹلوں گا یا تم مجھے بتادو اس نے کہا : میں وہی ہوں جس کے دل سے محبت کھیل رہی ہے، تو وہ محمد بن قاسم بن جعفر بن ابی طالب کی محبت میں روپڑی۔
آپ نے اس کے آقا کی طرف پیغام بھیجا اور اس سے خرید کر محمد بن قاسمم بن جعفر بن ابی طالب کی طرف بھیج دیا۔ (الخرائطی فی اعتدال القلب)