8766- "الصديق رضي الله عنه" عن عبد الله بن عمر قال: كتب أبو بكر الصديق إلى عمرو بن العاص، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم شاورنا في الحرب، وعليك به، قال: وكتب إليه، أما بعد: فقد عرفت وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأنصار بعد موته: إقبلوا من محسنهم، وتجاوزا عن مسيئهم. البزار "طب عق" وسنده حسن.
٨٧٦٦۔۔۔ (الصدیق (رض)) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں، حضرت صدیق اکبر (رض) نے حضرت عمروبن العاص (رض) کو لکھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے لڑائی کے بارے مشورہ کیا تھا سو تم بھی اس کی اختیار کرو، فرماتے ہیں : انھوں نے جواب لکھا : امابعد ! آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ وصیت معلوم ہوگی کو آپ نے انصار کے بارے اپنی وفات کے بعد ان سے سلوک کرنے کے بارے کی تھی، کہ ان کے نیک کی بات قبول کرو اور ان کے برے کو معاف رکھو۔ (البزار، طبرانی فی الکبیر، عقیلی فی الضعفاء، وسندہ حسن)
تشریح :۔۔۔ ان کی مراد تھی کہ اگر مجھ سے غلطی ہوئی تو مجھے معاف کردیں۔