hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8771

.

كنز العمال

8771
Kanz al-Ummal
8771- عن المسيب بن نجبة1 أن الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر أتوه يخطبون إليه ابنته، فقال: مكانكم حتى أعود إليكم، فأتى عليا، فقال: إني خلفت في المنزل الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر يخطبون إلي وأتيت أمير المؤمنين لأشاوره، فقال: أما الحسن فمطلاق ولا تحظى النساء عنده، وأما الحسين فملق، ولكن زوج ابن جعفر، فزوج ابن جعفر، فقالا له: منعتنا وزوجت ابن جعفر؟ فقال: أشار علي أمير المؤمنين، فأتياه فقالا: وضعت منا يا أمير المؤمنين؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: المستشار مؤتمن، فإذا استشير أحدكم فليشر بما هو صانع لنفسه. العسكري. مر برقم/7181/.
٨٧٧١۔۔۔ مسیب بن نجبہ سے روایت ہے کہ حضرت حسن ، حسین اور عبداللہ بن جعفر (رضوان اللہ علیہم) ان کے پاس ان کی بیٹی کا رشتہ طلب کرنے آئے، انھوں نے کہا : آپ لوگ ٹھہریں میں آپ کے پاس آتا ہوں ، وہ حضرت علی (رض) کے پاس گئے ، اور ان سے عرض کی : میں اپنے گھر، حسن ، حسین اور عبداللہ بن جعفر کو چھوڑآیاہوں اور امیر المومنین سے مشورہ طلب کرنے آیا ہوں ۔
آپ نے فرمایا : حسن تو زیادہ طلاق دینے کا عادی ہے عورتوں کی اس کے ہاں کوئی قدر نہیں اور حسین جلد باز ہے البتہ عبداللہ بن جعفر سے شادی کردو، چنانچہ آپ نے ابن جعفر کو رشتہ دے دیا، ان دونوں حضرات نے کہا : آپ نے ابن جعفر کو رشتہ دے دیا اور ہمیں محروم رکھاکیوں ؟ انھوں نے کہا : مجھے امیرالمومنین نے مشورہ دیا ہے، چنانچہ دونوں حضرات ان کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے : امیرالمومنین ! آپ نے ہمارا مرتبہ گھٹایا ہے کیوں ؟ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے جب تم میں سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ ایسا ہی مشورہ دے جیسا وہ خود کرنا چاہتا ہے۔ (العسکری مربرقم، ٧١٨١)
تشریح :۔۔۔ یہاں حضرت حسن اور حسین کے بارے جو الفاظ ہیں انھیں گستاخانہ الفاظ نہ سمجھیں یہ ایک باپ کے اپنے بیٹوں کے بارے میں کہے گئے الفاظ ہیں، اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشورہ طلب کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے کا نام کسی سے نہ لے۔ جیسے اس موقعہ پر یوں لوگوں میں بدگمان پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔