hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8797

.

كنز العمال

8797
Kanz al-Ummal
8797- "مسند علي رضي الله عنه" عن سعيد بن عبد الملك الدمشقي: حدثنا سفيان الثوري عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال: خرج علي بن أبي طالب يوما بالكوفة، فوقف على باب فاستسقى ماء، فخرجت إليه جارية بإبريق ومنديل، فقال لها: يا جارية لمن هذه الدار؟ فقالت: لفلان القسطار، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تشرب من بئر قسطار، ولا تستظلن في ظل عشار. "كر" ولم أر في رجاله من تكلم فيه.
٨٧٩٧۔۔۔ (مسند علی (رض)) سعید بن عبدالملک الدمشقی، سفیان ثوری، داؤدبن ابی ھندان کے سلسلہ سند میں شعبی سے روایت ہے فرماتے ہیں کوفہ میں ایک دن حضرت علی (رض) باہر نکلے، (چلتے چلتے) ایک دروازہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور (گھر سے) پانی مانگا، آپ کے پاس ایک لڑکی پانی کی صراحی اور رومال لیکرحاضر ہوئی، آپ نے اس لڑکی سے کہا : یہ کس کا گھر ہے ؟ اس نے کہا فلاں جوہری کا، آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : دراھم پرکھنے والے کے کنوئیں سے پانی نہ پینا اور عشر وصول کرنے والے (کی دیوار) کا سایہ نہ لینا (ابن عساکر، ولم ارفی رجالہ من تکلم فیہ)