8836- عن عمر قال: إن لله ملائكة يكتبون أعمال بني آدم، فيأتون ربهم عز وجل، فيقومون بين يديه، وينشرون صحفهم، فيقول الله عز وجل: ألق تلك الصحيفة، أثبت تلك الصحيفة، فتقول الملائكة، الذين أمروا أن يلقوا الصحيفة: شهدنا معهم خيرا، ورأيناه، قال إنهم أرادوا به غير وجهي. رسته.
٨٨٣٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے مخصوص فرشتے ہیں جو انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں ، وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس آکر اس کے سامنے (دست بستہ) کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور لوگوں کے نامہ اعمال کھول دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اس اعمالنامہ کو پھینک دو اور اسے محفوظ رکھو، تو وہ فرشتے عرض کرتے ہیں، جنہیں حکم ملتا ہے کہ اعمالنامہ کو پھینک دو : ہم نے اسے دیکھا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : انھوں نے میری رضا کے لیے یہ کام نہیں کیا تھا۔ (رستہ)
تشریح :۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو بھی کسی قلبی حالت کا علم نہیں ہوتاچہ جائیکہ کسی بزرگ اور دی کو اس کا علم ہوجائے، علام الغیوب اور علیم بذات الصدور فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔