8872- عن ثابت بن قيس بن شماس قال: ذكر الكبر عند النبي صلى الله عليه وسلم، فشدد فيه، فقال: إن الله لا يحب كل مختال فخور، فقال رجل من القوم: والله يا رسول الله إني لأغسل ثيابي فيعجبني بياضها، ويعجبني شراك نعلي وعلاقة سوطي، فقال: ليس ذاك الكبر، إنما الكبر أن تسفه الحق وتغمص الناس. "طب".
٨٨٧٢۔۔۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تکبر کا تذکرہ ہوا، آپ نے اس میں بڑی سختی سے ڈانٹا، اور فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر متکبر فخر کرنے والے کو نہیں چاہتا، تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں تو مجھے ان کی سفیدی اچھی لگتی ہے، اسی طرح مجھے جوتے کا تسمہ اور اپنے کوڑے کا دستہ اچھا لگتا ہے۔
آپ نے فرمایا : یہ تکبر نہیں ، تکبر یہ ہے کہ تم حق کو ٹھکراؤ اور لوگوں کو گھٹیا سمجھو۔ (طبرانی فی الکبیر)