hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8874

.

كنز العمال

8874
Kanz al-Ummal
8874- "مسند أبي جري جابر بن سليم الهجيمي التميمي رضي الله عنه" عن أبي تميمة الهجيمي قال: قال أبو جري جابر: ركبت قعودا لي فأتيت مكة في طلب النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا هو جالس، فقلت السلام عليك يا رسول الله، قال: وعليك، قلت إنا معشر أهل البادية، قوم فينا الجفاء، فعلمني كلاما ينفعني الله به، قال: اتق الله، ولا تحقرن من المعروف أو الخير شيئا، وإياك وإسبال الإزار، فإنه من المخيلة، وإن الله لا يحب المختال فقال رجل: يا رسول الله ذكرت إسبال الإزار، وقد يكون بساق الرجل القرح أو الشيء يستحي منه؟ فقال: لا بأس إلى نصف الساق أو إلى الكعبين، إن رجلا كان ممن قبلكم لبس بردة فتبختر فيها، فنظر الله إليه من فوق عرشه، فمقته، فأمر الأرض فأخذته، فهو يتجلجل بين الأرض فاحذروا وقائع الله. أبو نعيم.
٨٨٧٤۔۔۔ (مسند ابی جری جابربن سلیم اھجیمی التیمی (رض)) ابوتمیمۃ ھجیمی سے روایت ہے کہ حضرت ابوجری جابر (رض) نے فرمایا : میں اپنی سواری پر سوار ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طلب میں مکہ آیا، دیکھا تو آپ تشریف فرما ہیں، میں نے کہا : السلام علیک یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : وعلیک ، میں نے عرض کیا ہم دیہاتی لوگوں میں سخت مزاجی ہوتی ہے آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھادیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے۔
آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈراکر اور کسی نیکی یا بھلائی کو حقیر نہ سمجھنا ، اور ازار (شلوار) لٹکانے سے بچنا، کیونکہ یہ تکبر ہے، اور اللہ تعالیٰ کسی متکبر کو پسند نہیں کرتا، اتنے میں ایک شخص نے کہا : آدھی پنڈلی اور ٹخنوں تک کوئی حرج نہیں ، تم سے پہلے کسی شخص نے ایک چادر اوڑھی، جس میں وہ اترانے لگا اللہ تعالیٰ نے عرش سے اس کی طرف دیکھا، اور اس سے ناراض ہو کر زمین کو حکم دیا (کہ اسے نگل) تو زمین نے اسے پکڑلیا، سو وہ زمین کے درمیان حرکت کررہا ہے اللہ تعالیٰ کے (قابل عذاب) واقعات سے بچو۔ (ابونعیم)