8917- عن سالم بن عبد الله قال: كان عمر بن الخطاب قد استعمل النعمان بن عدي على ميسان، وكان يقول الشعر فقال:
ألا هل أتى الحسناء أن حليلها ... بميسان يسقى في زجاج وحنتم
إذا شئت غنتني دهاقين قرية ... ورقاصة تحثو على كل ميسم
فإن كنت ندماني فبالأكبر اسقني ... ولا تسقني بالأصغر المتثلم
لعل أمير المؤمنين يسوؤه ... تنادمنا في الجوسق المتهدم
فلما بلغ عمر بن الخطاب قوله، قال: نعم والله إنه ليسوءني من لقيه فليخبره أني قد عزلته، فقدم عليه رجل من قومه، فأخبره بعزله، فقدم على عمر فقال: والله ما صنعت شيئا مما قلت، ولكن كنت امرءا شاعرا وجدت فضلا من قول فقلت فيه الشعر، فقال عمر: أما والله لا تعمل لي عملا ما بقيت وقد قلت ما قلت. ابن سعد.
٨٩١٧۔۔۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نعمان بن عدی کو میسان کا گورنر بنایا وہ شعر کہا کرتے تھے انھوں نے کہا : آگاہ ! کیا حسناء کو بھی پتا ہے اس کا خاوند میسان میں شیشے اور کدو میں شراب پیتا ہے ، میں جب چاہتا ہوں تو گاؤں کے دیہاتی مجھے گانا سناتے ہیں، اور ایک ناچنے والی لڑکی جوہر نشان پر دوزانوں بیٹھ جاتی ہے، اگر تو میرا شراب میں شریک ساتھی ہے تو بڑا جام مجھے پلا، مجھے چھوٹا جام جس میں سوراخ ہے نہ پلا، شاید امیرالمومنین اسے برا سمجھیں ہمارا ٹوٹے ہوئے خیمہ میں مل بیٹھ کر شراب پینا۔
جب حضرت عمر (رض) کو معلوم ہوا کہ انھوں نے کہا ہے تو فرمایا ہاں مجھے اس کی یہ بات بری لگی ہے : جس کی اس سے ملاقات ہوا سے بتادے کہ میں نے اسے معزول کردیا ہے، ان کی قوم کا ایک شخص ان کے پاس گیا، اور انھوں معزقل ہونے کی اطلاع دی، تو وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے ، اور کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں جو کچھ (اشعار میں ) کہا : اس میں سے کچھ بھی نہیں کیا ہے، چونکہ میں ایک شاعر آدمی تھا اس لیے ایک فضول بات کو شعر کی صورت میں کہہ دیا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اب تم میری گورنری وغیرہ کچھ نہیں کرسکتے، جب تک بھی تم زندہ رہو، اگرچہ تم نے جو بھی کہا ہے۔ (ابن سعد)