8921- عن الضحاك بن عثمان قال: لما أرسل عمر بن الخطاب الحطيئة من الحبس في هجائه الزبرقان قال له: إياك والشعر، قال: لا أقدر يا أمير المؤمنين على تركه، مأكلة عيالي ونملة على لساني، قال فشبب بأهلك وإياك وكل مدحة مجحفة، قال: وما المدحة المجحفة؟ قال: تقول بنو فلان خير من بني فلان: إمدح ولا تفضل، قال: أنت يا أمير المؤمنين أشعر مني. ابن جرير.
٨٩٢١۔۔۔ ضحاک بن عثمان سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے جب حطیہ کو زبرقان کی ہجو کی وجہ سے جیل سے رہا کیا تو اس سے کہا : شعر کہنے سے پچنا ، تو انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! مجھے اس کی قدر نہیں ، یہ میری اہل و عیال کا ذریعہ طعام اور میری زبان پر ایک چیونٹی ہے، فرمایا : اپنی اہلیہ کی تعریف کر، اور فتنہ تعریف سے بچنا، انھوں نے کہا : فتنہ انگیز تعریف کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم جو یہ کہتے ہوں فلاں کے بیٹے ، فلاں کے بیٹوں سے بہتر ہیں، (لوگوں کی) تعریف کرو (مگر) فضلیت کسی کو نہ دو (حطیہ نے) کہا امیرالمومنین ! آپ تو مجھ سے زیادہ شاعر ہیں۔ (ابن جریر)