8946- عن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: ما في شعر العرب أحكم من قول العبديين
لقد غرت الدنيا رجالا فأصبحوا ... بمنزلة ما بعدها متحول
فساخط أمر لا يبدل غيره ... وراض بأمر غيره سيبدل
وبالغ أمر كان يأمل دونه ... ومختلج من دون ما كان يأمل
أبو الوليد الباجي في المواعظ.
٨٩٤٦۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کلام عرب میں عبدیین کے قول سے مضبوط کوئی قول (شعر) نہیں۔
دنیا نے بہت سے لوگوں کو دھوکا دیا وہ ایسے مقام میں پہنچ گئے جس میں تبدیلی ہونی چاہیے، کوئی کسی بات سے ناراض ہونے والا ہے کہ دوسرا اسے تبدیل نہیں کرسکتا۔
اور کوئی کسی بات پر راضی ہونے والا ہے کہ دوسرے کے لیے یہ کام تبدیل ہوجاتا ہے بعض دفعہ جس کام کی تمنائی کوئی کرتا ہے اسے حاصل کوئی اور کرتا ہے ، اور بغیر امید کوئی پریشانی میں مبتلا ہے۔ (ابوالولید الباجی فی المواعظ)