hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8958

.

كنز العمال

8958
Kanz al-Ummal
8958- عن الشريد قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، فبينا أنا أمشي ذات يوم إذ وقع ناقة خلفي، فتلفت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: الشريد؟ قلت نعم، قال: ألا أحملك؟ قلت بلى، وما بي من إعياء ولا لغوب، ولكن أردت البركة في ركوبي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأناخ فحملني، فقال: أمعك من شعر أمية ابن أبي الصلت؟ قلت: نعم، قال: هات فأنشدته مائة بيت، قال: عند الله علم أمية بن أبي الصلت، عند الله علم أمية بن أبي الصلت. ابن صاعد وقال غريب "كر".
٨٩٥٨۔۔۔ حضرت شرید (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلا، ایک دن میں چل رہا تھا کہ میرے پیچھے ایک اونٹنی آکھڑی ہوئی، میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں آپ نے فرمایا : شرید ؟ میں نے عرض کیا : جی یاں، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں سوارنہ کرلوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں (یارسول اللہ) مجھے کوئی تکان اور عاجزی نہیں لیکن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سوار ہونے کی برکت حاصل کرنا چاہتا تھا ، آپ نے اونٹنی بٹھائی اور مجھے سوار کرلیا، (راستہ میں) آپ نے فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن ابی الصلت کے اشعار یاد ہیں ؟ جی ہاں ، آپ نے فرمایا : سناؤ، تو میں نے ایک سواشعار سنائے، آپ نے فرمایا : امیہ بن ابی الصلت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، امیہ بن ابی الصلت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے (ابن ابی صاعہ وقال غریب ، ابن عساکر)