8967 - عن أبي زيد عمر بن شبة : ثنا أبو جرى وأبو حرب ، الثاني رجل من حمير من ولد الحجاج بن باب الحميري ، ولهم شرف ، ثنا يونس بن حبيب عن رؤبة بن العجاج عن أبيه ، عن أبي الشعثاء عن أبي هريرة قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر ، وحاد يحدو : طاف الخيلان فهاجا سقما خيال تكنى وخيال تكتما قامت تريك خشية أن تصرما ساقا بخنداة وكعبا أدرما والنبي صلى الله عليه وسلم لا ينكر ذلك ، قال أبو زيد : وهذا خطأ وذلك أن الشعر للعجاج ، والعجاج إنما قال الشعر بعد موت النبي صلى الله عليه وسلم بدهر ، والصواب ما في الطريق الاول ، إلا أن أبا عبيدة قال : قد قال العجاج بن رحره في الجاهلية.
(عد كر)
٨٩٦٧۔۔۔ ابوزید بن شبہ، ابوجری اوبوحرب ، دوسرا شخص قبیلہ حمیر سے ہے جو محتاج بن باب الحمیری کی اولاد سے ہے، انھیں شرف حاصل ہے، یونس بن حبیب ، رؤبہ بن عجاج، اپنے والد سے وہ ابوشعثاء سے وہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، ایک حدی خواں حدی کہہ رہا تھا۔
دوخیال چکر لگانے اور ایک بیماری بھڑکادی ایک خیال کی تونیت رکھتا ہے اور ایک خیال کو توچھپاتا ہے، وہ ڈر کے مارے کہ تو خنداۃ میں پنڈلی اور قریب قریب ٹخنا ہوجائے کھڑے ہو کر تجھے دکھانے لگی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر نکیر نہ فرماتے ، ابوزید کہا کہنا ہے کہ یہ غلطی ہے کیونکہ یہ شعر عجاج کے ہیں اور عجاج نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کافی عرصہ بعد یہ شعر کہا ہے درست وہی ہے جو پہلی روایت میں ہے صرف ابوعبیدہ نے یہ کہا ہے : کہ عجاج بن حرہ نے جاہلیت میں یہ اشعار کہے ہیں۔ (ابن عدی ، ابن عساکر)