9027- عن علي قال: إياكم ومعاداة الرجال، فإنهم لا يخلون من ضربين: من عاقل يمكر بكم، أو جاهل يعجل عليكم بما ليس فيكم، واعلموا أن الكلام ذكر والجواب أنثى، وحيث ما اجتمع الزوجان فلا بد من النتاج ثم أنشأ يقول:
سليم العرض من حذر الجوابا ... ومن دارى الرجال فقد أصابه
ومن هاب الرجال تهيبوه ... ومن حقر الرحال فلن يهابا
"هب". مر برقم [8489] .
٩٠٢٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : لوگوں کے جھگڑوں سے بچو کیونکہ ان کی دوہی قسمیں ہیں، یا کوئی عقلمند تمہارے خلاف مکر کرے گا یا کوئی جاہل تمہارے ذمہ وہ بات لگادے گا جو تم میں نہیں ہوگی، یاد رکھو گفتگو مذکر ہے اور مونث اور جہاں مذکر ومؤنث جمع ہوجائیں وہاں اولاد کا ہونا ضروری ہے پھر یہ اشعار پڑھتے۔
جو جواب سے بچا اس کی عزت محفوظ ہوگئی، جس نے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھا اس نے اچھا کام کیا، جو لوگوں سے ڈرا لوگ اس سے ڈریں گے، اور جس نے لوگوں کو حقیر جانا وہ ہرگز اس سے نہیں ڈریں گے (بیھقی فی الشعب مربرقم : ٨٤٨٩)