9041- عن إسماعيل بن زياد، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن أسامة بن زيد قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلة شهباء، وأنا ردفه، إذ عثرت البغلة، فقلت: تعس إبليس، فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على منكبي، فقال: يا أسامة لا تقل هكذا، فإن لإبليس عند ذلك نخرة يقول: ذكرني ونسي ربه، ولكن قل: بسم الله. "خط" في المتفق والمفترق ورجاله ثقات، لكن فيه انقطاع بين محمد بن علي بن الحسين وبين أسامة.
٩٠٤١۔۔۔ اسماعیل بن زیاد، جعفر بن محمد، اپنے والد سے وہ حضرت اسامہ بن زید (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہلکے سفید رنگ کے خچر پر سوار تھے میں آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اچانک وہ خچر پھسلا میں نے کہا : ابلیس کا ناس ہو، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے کندھوں پر ہاتھ مارا، اور فرمایا : اس طرح نہ کہو، کیونکہ اس وقت ابلیس اتراتا ہے وہ کہتا ہے : مجھے یاد کررہا ہے اور اپنے رب کو بھول گیا ہے لیکن بسم اللہ کہا کرو۔ (خطیب فی المتفق والمفترق ورجالہ ثقات ورجالہ ثقات لسکن فیہ انقطاع بین محمد بن علی بن الحسین وبین اسامۃ)