9118- إسق يا زبير، ثم احبس حتى يرجع الماء إلى الجدار.
"حم خ م د ت هـ" عن عبد الله بن الزبير.
٩١١٨۔۔۔ زبیر تم (اپنی زمین کو) سیراب کرو پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ پانی دیواروں پر سے واپس لوٹ آئے۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم ، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ عن عبداللہ بن زبیر)
تشریح :۔۔۔ یہ ایک انصاری صحابی تھے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : زبیر تم اتنا پانی روکو جس میں ٹخنے تر ہوجائیں ، تو اس پر وہ صحابی باراض ہو کر کہنے لگے یارسول اللہ ! آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں ؟ آپ نے اس فیصلہ سے وہ ناواقف تھے کہ اصل شرعی طریقہ یہی ہے آپ نے فرمایا زبیر اگر ایسی بات ہے تو تم پوری طرح اپنی زمین سیراب کرو، بعد میں ان صاحب نے حضور سے معافی مانگی کہ یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انجانے میں مجھ سے یہ گفتگو ہوگئی تھی۔