9145- عن عمرو بن يحيى المازني عن أبيه الضحاك بن خليفة ساق خليجا له من العريض، فأراد أن يمر في أرض لمحمد بن مسلمة، فأبى محمد، فكلم فيه الضحاك عمر بن الخطاب، فدعا محمد بن مسلمة، فأمره أن يخلي سبيله، فقال محمد بن مسلمة: لا، فقال عمر: لم تمنع أخاك ما ينفعه؟ وهو لك نافع تشرب به أولا وآخرا ولا يضرك، فقال محمد: لا، فقال عمر: والله ليمرن به ولو على بطنك، فامر به عمر: أن يمر به ففعل. مالك والشافعي "عب ش ق" وقال مرسل.
٩١٤٥۔۔۔ عمروبن یحییٰ مازنی اپنے والد ضحاک بن خلیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک چوڑی نہر سے نالی نکالی جسے وہ (اپنے) زمین تک پہنچانے کے لیے محمد بن مسلمہ کی زمین سے گزارنا چاہتے تھے تو محمد نے انکار کردیا، ضحاک نے حضرت عمر سے گفتگو تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور انھیں حکم د کیا کہ راستہ دیدیں تو محمد بن مسلمہ نے کہا : نہیں ، حضرت عمر نے فرمایا : تو اپنے بھائی کو فائدہ مند چیز سے کیوں روکتا ہے ؟ اس میں تمہارے لیے بھی نفع ہے پہلے اور آخر میں تم اپنی زمین کو سیراب کرلینا جس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں، تو محمد نے کہا : تو حضرت عمر نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ ضرور گزارے گا چاہے تمہارے پیٹ پر سے گزرناپڑے، حضرت عمر نے انھیں حکم دیا، کہ وہ پانی گزارلیں چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ (مالک والشافعی، عبدالرزق، مصنف ابن ابی شیبہ، بیھقی) نرمی سے جب کوئی کام نہ نکلے تو بادشاہ وقت کو سختی کا اختیار ہے۔