9165- عن عبد الله بن أبي بكر قال: جاء بلال بن الحارث المزني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقطعه أرضا طويلة عريضة، فلما ولي عمر، قال لبلال: إنك استقطعت رسول الله صلى الله عليه وسلم أرضا عريضة طويلة فقطعها، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يمنع شيئا يسأله فإنك لا تطيق ما في يديك، فقال: أجل قال: فانظر ما قويت عليه منها فأمسكه، وما لم تطق فادفعه إلينا نقسمه بين المسلمين، فقال: لا أفعل والله، شيء أقطعنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: والله لتفعلن، فأخذ منه ما عجز عن عمارته فقسمه بين المسلمين. "ق".
٩١٦٥۔۔۔ عبداللہ بن ابی بکر (رض) سے روایت ہے فرمایا : بلال بن حارث مزنی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لمبی چوڑی اور وسیع زمین کا مطالبہ کرنے آئے جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو بلال سے کہا : تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لمبی چوڑی اور وسیع زمین کی جاگیر مانگی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز سے منع نہیں فرماتے تھے، جس کا بھی سوال کیا جاتا تھا جتنی زمین تمہارے پاس ہے وہ تمہارے بس سے باہر ہے انھوں نے کہا : جی ہاں ، تو حضرت عمر نے کہا : تو دیکھو کس کی تمہیں قدرت ہے اسے اپنے پاس رکھو اور جس کی طاقت نہیں وہ ہمیں دیدوتا کہ ہم مسلمانوں میں تقسیم کرسکیں ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم جو جاگیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دی ہے اس میں ایسا نہیں کرسکتا، حضرت عمر نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! تمہیں ضرور ایسا کرنا پڑے گا چنانچہ آپ نے ان سے وہ زمین لے لی جو ان کی دسترس سے باہر تھی اور اسے مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ (بیھقی فی الشعب)