9237- "الساعي على والديه ليكفهما أو يغنيهما عن الناس في سبيل الله، والساعي على نفسه ليغنيها ويكفها على الناس في سبيل الله، والساعي مكاثرة في سبيل الشيطان". "طس عن أنس".
9237 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کوئی شخص اس نیت سے کمانے نکلے کہ اپنے والدین کی کفالت کرے یا یہ کہ ان کو لوگوں کی محتاجی سے بچائے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے اور اگر کوئی اس لیے کمائے کہ خود کو لوگوں کی محتاجی سے بچائے اور اپنا گزر خود کرے تو وہ بھی اللہ کے راستے میں اور اگر کوئی شخص اس نیت سے کمائے کہ اس کے مال میں اضافہ ہو تو وہ شیطان کے راستے میں ہے۔ (طبرانی فی المعجم الاوسط حضرت انس (رض) )
فائدہ :۔۔۔ مذکورہ تینوں احادیث کا مضمون واضح ہے کیونکہ کوئی بھی شخص جب کمانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو عموماً یہی وجوبات پیش نظر ہوتی ہیں، یعنی والدین کی خدمات کفالت، اور ان کو در در کی محتاجی سے بچانا، کہیں بال بچوں کو روٹی، کپڑا، مکان کی فراہمی کا ارادہ کہیں اپنا گزراوقات اور کہیں مال میں اضافے کی لالچ و خواہش اور پھر کہیں یہ تمام صورتیں موجود ہوتی ہیں کہیں بعض اور کہیں ان میں سے ایک لہٰذا اول الذکر تمام صورتوں میں تو اجر وثواب یقینی ہے اور آخر الذکر میں گناہ یقینی ہے لیکن یہ گناہ والی صورت بھی ثواب والی صورتوں کے ساتھ مل گئی تو نیت کا اعتبار ہوگا یعنی اگر اصل نیت تو مال میں اضافہ ہو اور ضمنی طور پر ساتھ یہ بھی ہو کہ جو اس میں سے کچھ والدین اور بال بچوں کو بھی دے دیا گیا کروں گا تو یہ شخص گناہ گار ہوگا لیکن اگر اصل نیت والدین اور بال بچوں وغیرہ کی کفالت کی ہو اور ساتھ یہ خیال بھی ہو کہ جو بچا رہے گا اس کو جمع کرتا رہوں گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت واسعہ سے امید ہے کہ اس میں مواخذہ نہ فرمائیں گے بلکہ اجر وثواب عطا فرمائیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب، مترجم