hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 9241

.

كنز العمال

9241
Kanz al-Ummal
9241- "من استطاع منكم أن لا يدخل بطنه إلا طيبا فليفعل، وإن أول شيء ينتن من ابن آدم بطنه، ومن استطاع منكم أن لا يصيب حراما ولو بحجمة من دم حرام، لا يأتي بابا من أبواب الجنة إلا حال بينه وبين أن يدخلها". "هب عن جندب".
9241 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر تم میں سے کسی میں اتنی طاقت ہو کہ اپنے پیٹ میں پاک چیز کے علاوہ داخل نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ایسا ہی کرے، بیشک (مرنے کے بعد) سب سے پہلے انسان کا پیٹ بدبودار ہوتا ہے اور اگر تم میں سے کسی میں اتنی طاقت ہو کہ وہ حرام سے بچے خواہ وہ بہت ہی کم مقدار میں بہایا گیا ہے خون ناحق ہی کیوں نہ ہو۔ تو اس کو بچنا چاہیے ورنہ وہ جس دروازے سے جنت میں داخل ہونا چاہے گا یہ خون ناحق اس کے راستے میں حائل ہوجائے گا “۔ (بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت جندب (رض) )
فائدہ :۔۔۔ اس روایت میں حجۃ کا لفظ آیا ہے جو اس ذرا سے خون کو کہتے ہیں جو پچھے لگواتے ہوئے نکل آتا ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ حرام کاری اور حرام کمائی سے بچو خواہ وہ خون ناحق میں معمولی شرکت کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حرام کاری سے مراد صرف عریانی فحاشی، زنا، وشراب وکباب وغیرہ نہیں ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں مشہور ہوچکا ہے بلکہ حرام کاری سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت اسلامیہ نے بچنے کا حکم دیا ہو۔ (مترجم)