hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 9255

.

كنز العمال

9255
Kanz al-Ummal
9255- "ما تصدق أحد بصدقة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب إلا وضعها حين يضعها في كف الرحمن، وإن الله ليربي لأحدكم التمرة كما يربي أحدكم فلوه أو فصيله حتى تكون مثل أحد". "قط في الصفات عن أبي هريرة".
9255 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی صدقہ نہیں کرتا پاک مال سے مگر یہ کہ اسے رحمن (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ پاک مال ہی قبول کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کے صدقہ دئیے ہوئے چھوارے کو ایسے (پالتا) بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے بچے کی یا کسی اور کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ چھوارہ احد پہاڑ کی طرح ہوجاتا ہے “۔ (سنن دار قطنی فی الصفات بروایت ابوہریرہ (رض) )
فائدہ :۔۔۔ صدقے کے مال کو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں دینے کا جو ذکر آیا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مال اللہ تعالیٰ کے پاس جمع ہوگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہاتھ پیر وغیرہ سے پاک ہیں اور پالنے سے مراد صدقہ شدہ چیز کی نوعیت کے اعتبار سے اضافہ ہے یعنی ایک کھجور یاچھوارہ صدقہ کرے تو کھجوروں کی تعداد اتنی بڑھا دیں کہ کھجوروں کا ڈھیر احد پہاڑ کے برابر ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے اصل چیز ہی میں اضافہ ہوجائے یعنی ایک کھجور کو ہی اتنا بڑا کردیا جائے کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ صدقہ شدہ چیز کے ثواب کو اتنا بڑھا دیا جائے گویا کہ صدقہ کرنے والے نے ایک کھجور نہیں بلکہ احد پہاڑ کے برابر کھجوریں صدقہ کی ہوں، بہرحال کچھ بھی ہو اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہیں۔ (مترجم)