hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 9294

.

كنز العمال

9294
Kanz al-Ummal
9294- "لعلك ترزق به". "ت ك عن أنس"
9290 ۔۔۔ فرمایا کہ ” شاید تجھے اسی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو۔ (ترمذی، مستدرک حاکم بروایت حضرت انس (رض))
فائدہ :۔۔۔ اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ، دو بھائی تھے، ایک ہر وقت جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں موجود
رہتا اور عبادات وغیرہ میں مشغول رہتا، جبکہ دوسرا کمانے کی فکر میں لگا رہتا، ایک مرتبہ کمانے والے بھائی نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عبادت گزار بھائی کی شکایت کی کہ میں اکیلا محنت کر کے کماتا ہوں جبکہ یہ ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا ہے اور کام کاج بالکل نہیں کرتا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا کہ شاید تجھے اسی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو “۔
یعنی اگر کوئی شخص محنت کر کے حلال مال بھی کماتا ہے تو اسے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ میں جو کچھ حاصل کررہا ہوں اپنی محنت سے حاصل کررہا ہوں، بلکہ جو کچھ بھی مل رہا ہے اسے اللہ تعالیٰ کا دین سمجھنا چاہیے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمان برداری سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں، اس لیے اس میں کمی نہیں کرنی چاہیے بلکہ عبادات وغیرہ کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رزق بعض اوقات صرف محنت سے نہیں بلکہ نیک لوگوں کی برکت سے بھی ملتا ہے خواہ وہ نیک لوگ مدرسوں میں ہوں یا خانقاہوں میں ہوں یا گھروں میں۔ (مترجم)