9309- "إني رأيتكم تطلبون معايشكم، هذا رسول رب العالمين جبريل نفث في روعي، لا تموت نفس حتى تستكمل رزقها، وإن أبطأ عليها، فاتقوا الله أيها الناس، وأجملوا في الطلب، ولا يحملنكم استبطاء شيء من الرزق أن تأخذوه بمعصية فإن الله لا يدرك ما عنده إلا بطاعته". "الحكيم عن حذيفة" "الحكيم عن ابن مسعود".
9305 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میں نے تمہیں ذرائع معاش اختیار کرتے ہوئے دیکھا، یہ تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے نمائندے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہ مرے گا جب تک اپنا رزق نہ مکمل کرلے اگرچہ کچھ تاخیر سے ہی کیوں نہ ہو، لہٰذا اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور تلاش رزق میں میانہ روی اختیار کرو، اور رزق ملنے میں دیر ہونے کی وجہ سے کہیں جلد (بازی میں) گناہ کا راستہ اختیارمت کرلینا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی فرمان برداری کرنے سے ہی ملتا ہے نافرمانی سے نہیں “۔ (حکیم بروایت حضرت حذیفہ اور حضرت ابن مسعود (رض))