9314- "هلموا إلي: هذا رسول رب العالمين جبريل، نفث في روعي أن نفسا لن تموت حتى تستكمل رزقها، وإن أبطأ عليها فاتقوا الله وأجملوا في الطلب، ولا يحملنكم استبطاء الرزق على أن تطلبوه بمعصية الله، فإن الله لا ينال ما عنده إلا بطاعته". "ز عن حذيفة".
9310 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میرے پاس آؤ ! یہ تمام جہانوں کے رب کے نمائندے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہ مرے گا جب تک اپنا رزق مکمل نہ کرلے اگرچہ کچھ دیر سے ہی کیوں نہ ملے، لہٰذا طلب میں میانہ روی اختیار کرو، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ رزق دیر سے ملنے کی وجہ سے (جلدی حاصل کرنے کے لئے) گناہ کا راستہ اختیار کرنے لگو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی فرمان برداری کرنے سے ہی ملتا ہے نافرمانی سے نہیں “۔ (بروایت حضرت حذیفہ (رض))