9419- "نهى عن الصرف قبل موته بشهرين". "البزار طب عن أبي بكرة".
9415 ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات سے دو ماہ پہلے بیع صرف کرنے سے منع فرمادیا تھا “۔ بزار، طبرانی بروایت حضرت ابوبکر (رض) )
بیع صرف :۔۔۔ بعض ثمنوں کو بعض کے عوض بیچنے کو بیع صرف کہتے ہیں۔ (دیکھیں، فتح القدیر بحوالہ اردو ترجمہ فتاوی عالمگیری جلد 5 مطبوعہ دالاشاعت کراچی)
دوسرے لفظوں میں آپ یوں سمجھ لیجئے کہ کرنسی کے بدلے کرنسی کے لین دین (خریدوفروخت) کو بیع الصرف کہتے ہیں، جیسے سونا دے کر سونا خریدنا، یا چاندی دے کر چاندی خریدنا، یا سونا دے چاندی خریدنا، یا چاندی ، دے کر سونا خریدنا، چونکہ اس وقت دینار (سونے کے سکے) اور درھم (چاندی کے سکے) ہی بطور کرنسی کے رائج تھے اس لیے ثمن کا ترجمہ کرنسی سے کیا گیا ہے۔
اب چونکہ بیع صرف میں موجود اس کی مخصوص شرائط کا لحاظ عام طور پر نہیں رکھا جاتا لہٰذا روایت میں مطلقاً منع فرمادیا، باقی اس کی صحیح تعریف، حکم اور شرائط کسی بھی مستند دارالافتاء سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ (مترجم)