9461- "لا تصروا الإبل والغنم، فمن ابتاعها بعد فإنه بخير النظرين، بعد أن يحلبها، إن شاء أمسك، وإن شاء ردها وصاع تمر". "خ عن أبي هريرة".
9457 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ دوھے بغیر مت چھوڑو (تاکہ خریدار جانور کو زیادہ دودھ دینے والا سمجھے) ۔ اس کے بعد بھی (جس کسی نے) ایسا جانور خرید لیا تو اس کو اس جانور کا دودھ دوھ لینے کے بعد (یعنی یہ حقیقت) معلوم ہونے کے بعد کہ جانور دراصل اتنا دودھ دینے والا ہے نہ کہ جتنا خریداری کے وقت لگتا تھا (خریدار کو ) دو اچھی باتوں کا اختیار ہے۔
1 ۔۔۔ یا تو اسی جانور پر گزارا کرے، یا
2 ۔۔۔ اس جانور کو واپس کردے اور ایک صاع کھجور۔ اضافی طور پر تھنوں میں موجود دودھ کے بدلے میں بھی دے۔ (بخاری بروایت حضرت ابوھریرہ (رض) )
فائدہ :۔۔۔ اس روایت میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے وہ علماء کے ہاں بیع مصراۃ کے نام سے مصروف ہے اور ائمہ کے ہاں اختلافی ہے، مسئلہ چونکہ قدرے پیچیدہ ہے لہٰذا اس مسئلہ کو کسی مستند عالم یا دارالافتاء سے سمجھ لینا چاہیے۔ (مترجم)