9528- "لا يبع حاضر لباد، ولا تناجشوا، ولا يبع الرجل على بيع أخيه، ولا يخطب على خطبة أخيه، ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكفئ ما في إنائها ولتنكح، فإنما لها ما كتب الله لها". "خ ت ن هـ عن أبي هريرة".
9524 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی موجود کسی غائب کے لیے خریدو فروخت نہ کرے، اور نجش نہ کرے، اور کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی اپنے (مسلمان) بھائی کے رشتے پر رشتہ بھیجے اور نہ ہی کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کی خواہشمند ہو کہ (اس طرح) الٹ دے جو کچھ اس کے برتن میں ہے اور خود نکاح کرلے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بھی وہی لکھ رکھا ہے جو اس کے لیے لکھ رکھا ہے “۔ (بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض)
فائدہ :۔۔۔ نجش کی تعریف پہلے گزرچکی ہے، باقی باتیں واضح ہیں، البتہ عورت کا دوسرے عورت کی طلاق کی خواہش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ایک عورت کسی دوسری کو طلاق دلوا کر اسی آدمی سے خود نکاح کرلے کیونکہ اس آدمی سے جو پہلی عورت کے نصیب میں لکھا تھا وہی اللہ تعالیٰ اس کے لیے بھی لکھ رہا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)