9548- "لا يبع حاضر لباد، ولا تستقبلوا الجلب، ولا تناجشوا ولا يخطب أحدكم على خطبة أخيه، ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكفئ ما في صحفتها، فإنما لها ما كتب لها، ولا تصروا الإبل والغنم لبيع، فمن اشترى شاة مصراة فإنه بأحد النظرين، إن شاء ردها ردها بصاع من تمر". "طب عن ابن عمر".
9544 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی حاضر کسی غائب کے لیے خریدو فروخت نہ کرے اور نہ ہی نجش کرو اور نہ ہی تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کے رشتے پر رشتہ بھیجے، اور نہ ہی کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کی خواہش مند ہو کہ اس کے برتن کو الٹ دے، کیونکہ اس کے لیے بھی وہی ہے جو اس کی (مسلمان) بہن کے لیے ہے، اور بیچنے کے لیے اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ نہ چھوڑو، اگر کسی نے ایسی بکری خرید لی تو اس کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، اگر چاہے تو واپس کردے اور ساتھ ایک صاع کی مقدار کھجوریں بھی دے دے “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابن عمر (رض))