9598- "نهى عن المحاقلة 2 والمخاضرة والملامسة والمنابذة والمزابنة". "خ عن أنس".
9594 ۔۔۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ، محاضرہ، ملامسہ، مناہذہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری بروایت حضرت انس (رض))
فائدہ :۔۔۔ اس روایت میں چند مزید الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کی تشریح حسب ذیل ہے :
محاقلۃ :۔۔۔ اس کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کئے گئے ہیں۔
1 ۔۔۔ گندم کے دانوں کے بدلے زمین (کھیت) کو کرائے پر دینا۔
2 ۔۔۔ تہائی یا چوتھائی حصہ طے کرکے کسی کی زمین میں کھیتی باڑی کرنا۔
3 ۔۔۔ کھانا (یعنی گندم، جو وغیرہ) جو ابھی اپنے خوشوں میں ہی ہو اور اس کو گندم وغیرہ کے بدلے بیچ دیا جائے۔
4 ۔۔۔ کھیتی اگنے سے پہلے ہی اس کو فروخت کردینا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں حاشیہ 11 صحیح بخاری جلد 2931 باب بیع المحاضرۃ
مخاضرۃ :۔۔ پھلوں اور دانوں کو پکے بغیر ہی بیچ دینا یعنی ابھی وہ کچے ہی ہوں اور ہرے ہوں۔ دیکھیں بخاری ج 2931 حل اللغات
ملامسمۃ۔۔۔ اس کی تفسیر میں امام اعظم (رح) فرماتے ہیں کہ ملامسۃ یہ ہے کہ کوئی شخص خریدار سے کہے کہ میں تجھے یہ سامان بیچتا ہوں، اگر تو نے اس کو چھولیا تو تیرے ذمے خریدنا لازم ہوگا، یا یہی بات خریدار بیچنے والے سے کہے۔ (بخاری 278 ۔ 1 ۔ حاشیہ 2)
منابذۃ :۔۔۔ یعنی بیچنے والا اور خریدار دونوں مثلاً اپنا اپنا کپڑا دکھائے بغیر دوسرے کی طرف پھینک دیں اور کہیں کہ بیع ہوگئی، یعنی دونوں نے اپنے ہاتھ سے پھینکے ہوئے کپڑے کو قیمت سمجھا اور دوسرے کی طرف سے آئے ہوئے کپڑے کو مال۔ (دیکھیں بخاری ج 2871 حاشیہ 13)