29692- عن الحكم بن عتبة قال اختصم علي والزبير إلى عمر في موالي صفية فقال علي: عمتي وأنا أعقل عنها وأرثها، وقال الزبير: أمي وأنا أرثها فقال عمر لعلي: أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل الولاء تبعا للميراث فقضى به للزبير. ابن راهويه.
29692 ۔۔۔ حکم بن عتبہ روایت کی ہے کہ حضرت علی (رض) اور حضرت زبیر (رض) سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک کیس لے کر آئے کیس کی نوعیت یہ تھی کہ حضرت صفیہ (رض) کے آزاد کردہ غلاموں کے حق ولاء کا وارث کون ہو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا دعوی تھا کہ صفیہ (رض) میری پھوپھی ہیں میں ان کی طرف سے کسی قسم کا بھی تاوان ادا کر دوں گا اور وارث میں ہوں گا لہٰذا حق ولاء کا وارث میں ہوں حضرت زبیر (رض) کا دعوی تھا کہ صفیہ (رض) میری ماں ہیں لہٰذا حق ولاء کا بھی وارث میں ہی ہوں ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے کہا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حق ولاء کو میراث کے تابع کیا ہے چنانچہ آپ (رض) نے حضرت زبیر (رض) کے حق میں فیصلہ سنایا۔ (رواہ ابن راھویہ)