29695- عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام أن العاص بن هشام هلك وترك بنين له ثلاثة اثنان لأم ورجل لعلة فهلك أحد اللذين لأم وترك مالا وموالي فورثه أخوه الذي ورث المال وولاء الموالى وترك ابنه وأخاه لأبيه فقال ابنه: قد أحرزت ما كان أبي قد أحرز من المال وولاء الموالي، فقال أخوه: ليس كذلك وإنما أحرزت المال فأما ولاء الموالي فلا أرأيت لو هلك أخي اليوم ألست أرثه أنا؟ فاختصما إلى عثمان فقضى لأخيه بولاء الموالي. الشافعي، "هق".
29695 ۔۔۔ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام روایت کی ہے کہ عاص بن ہشام جب مرا اس نے اپنے ورثاء میں تین بیٹے دو ماں شریک بھائی اور ایک باپ شریک بھائی چھوڑا ماں شریک بھائیوں میں سے ایک مرگیا اس نے ترکہ میں مال اور آزاد کردہ غلام چھوڑے مال کا وارث اس کا بھائی بن گیا اور حق ولاء میں بھی وہی وارث بنا اس کا ایک بیٹا اور ایک باپ شریک بھائی تھا بیٹے نے کہا میں اپنے باپ کے مال اور حق ولاء کا وارث ہوں باپ شریک بھائی نے کہا : بات یوں نہیں ہے مال کا وارث تو تو ہی ہے رہی بات حق ولاء کی میں نہیں سمجھتا کہ اس کا وارث تو بنے بھلا اگر میرا بھائی آج مرتا کیا اس کا وارث میں نہ بنتا ؟ دونوں یہ جھگڑا لے کر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس آئے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے بھائی کے لیے آزاد کردہ غلاموں کے حق ولاء کا فیصلہ کیا ۔ (رواہ الشافعی والبیہقی)