29704- عن قبيصة بن ذؤيب قال: كان الرجل إذا أعتق سائبة لم يرثه، وإذا جنى جناية كان على من أعتقه، فدخلوا على عمر بن الخطاب فقالوا: يا أمير المؤمنين أنصفنا إما أن يكون عليكم العقل ولكم الميراث، وإما أن يكون لنا الميراث وعلينا العقل فقضى عمر لهم بالميراث. "هق".
29704 ۔۔۔ قبیصہ بن ذؤیب کی روایت ہے کہ (دور جاہلیت میں) جب کوئی شخص غلام کو آزاد کرکے سائبہ بنا دیتا اس کا وارث نہیں بنتا تھا جب وہ غلام کوئی جنابت کر بیٹھتا تو اس کا تاوان آزاد کرنے والے پر ہوتا تھا چنانچہ لوگ یہی شکایت لے کر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! ہمارے ساتھ انصاف کریں یا تو تاوان بھی آپ آدا کریں اور میراث بھی آپ کے لیے ہو یا پھر میراث بھی ہمارے لیے اور تاوان بھی ہمیں کو ادا کرنا پڑے ۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے درخواست گزار ان کے لیے میراث کا بھی فیصلہ کیا ۔ (رواہ البیہقی فی السنن)