29706- عن عروة قال: جاءت وليدة لبني هلال اسمها بريرة تستعين عائشة في كتابتها فسامت عائشة بها أهلها، فقالوا: لا نبيعها إلا ولنا ولاؤها فتركتها وقالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أبوا أن يبيعوها إلا ولهم ولاؤها فقال: لا يمنعك ذلك إنما الولاء لمن أعتق فابتاعتها عائشة وأعتقتها فخيرت بريرة فاختارت نفسها فقسم لها النبي صلى الله عليه وسلم شاة، فأهدت لعائشة منها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هل عندكم من طعام؟ فقالت: لا إلا ذا الشاة التي أعطيت بريرة فنظر ساعة ثم قال: قد وقعت موقعها، هي عليها صدقة ولنا هدية فأكل منها"، قال عروة: ابتاعتها مكاتبة على ثمان أواق وإن لم ينقص من كتابتها شيء. "عب".
29706 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ بنو ہلال کی بریرہ باندی حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) کے پاس آئی اور بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) سے مدد کی درخواست کی حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے باندی کے مالکان سے خریدنے کو کہا ، مالکان نے کہا : ہم یہ باندی اس شرط پر فروخت کریں گے کہ حق ولاء ہمیں ملے گا حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ مالکان نے باندی فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے الایہ کہ ان کے لیے حق ولاء ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں کوئی ممانعت نہیں چونکہ جو شخص غلام باندی آزاد کرتا ہے حق ولاء اسی کو ملتا ہے حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے باندی خرید کر آزاد کردی پھر بریرہ (رض) کو خیار عتق دیا انھوں نے خیار عتق اپنایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ایک بکری کا اعلان کیا جو حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) کو بریرہ (رض) نے بطور ہدیہ دے دی بکری ذبح کرکے پکائی گئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تشریف لائے اور کھانا مانگا گھر والوں نے گھر میں وہی بکری پکی ہوئی ہے جو بریرہ کو ملی تھی آپ نے فرمایا : یہ بریرہ کے لیے صدقہ تھی اور ہمارے لیے ہدیہ ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے گوشت تناول فرمایا ۔ عروہ کہتے ہیں حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے بریرہ (رض) کو مکاتبت میں خریدا اور بدلہ میں دراہم ادا کیے ۔ اس کی کتابت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ (رواہ عبدالرزاق)