29759- "أيضا" أعتق أبو مذكور غلاما له يقال له يعقوب القبطي عن دبر3 منه، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أله مال غيره؟ قالوا: لا قال: من يشتريه مني؟ فاشتراه نعيم بن النحام ختن عمر بن الخطاب بثمانمائة درهم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أنفق على نفسك، فإن كان فضل فعلى أهلك فإن كان فضل فعلى أقاربك، فإن كان فضل فاقسم ههنا وههنا". "عب".
29759 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ابو مذکور نے یعقوب نامی قبطی غلام مدبر بنادیا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر پہنچی آپ نے فرمایا : کیا اس شخص کا کوئی اور مال بھی ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ چنانچہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے داماد نعیم بن نحام نے وہ غلام آٹھ سو دراہم میں خرید لیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مال اپنے اوپر خرچ کرو۔ اگر بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرو پھر اگر بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو پھر بھی اگر بچ جائے تو ادھر ادھر تقسیم کر دو ۔ (رواہ عبدالرزاق)