32059- أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي من الأنبياء: جعلت لي الأرض طهورا ومسجدا ولم يكن نبي من الأنبياء يصلي حتى يبلغ محرابه، وأعطيت الرعب مسيرة شهر يكون بيني وبين المشركين مسيرة شهر فيقذف الله الرعب في قلوبهم، وكان النبي يبعث إلى خاصة قومه وبعثت أنا إلى الجن والأنس، وكانت الأنبياء يعزلون الخمس فتجيء النار فتأكله وأمرت أن أقسمها في فقراء أمتي، ولم يبق نبي إلا أعطي سؤله، وأخرت شفاعتي لأمتي. "ق - عن ابن عباس".
32058 ۔۔۔ مجھے پانچ باتیں عطا ہوئیں جو مجھ سے قبل کسی کو عطاء نہیں ہوئیں میرے لیے زمین کو پاکیزہ اور مسجد قرار دیا گیا جب کہ کوئی نبی اس وقت نماز نہیں پڑھ سکتا تھا یہاں تک اپنے محراب تک پہنچ جائے اور مجھے ایک مہینہ کی مسافت سے رعب سے مدد کی گئی جو میرے اور مشرکین کے درمیان ایک مہینہ کی مسافت ہو تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے جب کہ میں جن اور انس کی طرف مبعوث ہواہوں اور انبیاء مال غنیمت کے خمس لے کر رکھ دیتے آسمانی آگ آکر کھا جاتی مجھے حکم ملا کہ اس کو فقراء میں تقسیم کروں ہر نبی کو اس کا مطلوب دیدیا گیا میں نے اپنی سفارش اپنی امت کے لیے موخری کردی۔ (بیہقی بروایت ابن عباس (رض))