HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37008

36998- "مسنده" عن الذيال بن عبيد بن حنظلة بن خديم حنيفة سمعت جدي يقول: قال حنيفة لابنه حذيم: اجمع لي بنيك فإني أريد أن أوصي، فجمعهم ثم قال: جمعتهم يا أبتاه! قال فإني أول ما أوصي به مائة من الإبل التي كنا نسمي المطيبة في الجاهلية صدقة على يتيمي هذا - في حجره، قال: اسم اليتيم ضرس بن قطيعة. قال حذيم لأبيه حنيفة: إني أسمع بنيك يقولون إنما تقر بها عين أبينا فإذا مات اقتسمناها وقسمنا له مثل نصيب بعضنا، قال: أسمعتهم يقولون ذلك؟ قال: نعم، قال: فبيني وبينك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلقنا إليه فإذا هو جالس، فقال: من هؤلاء المقبلون؟ فقالوا: هذا حنيفة النعم أكثر الناس بعيرا بالبادية، قال: فمن هذان حواليه؟ قالوا: أما الذي عن يمينه فابنه حذيم الأكبر ولا نعرف عن يساره، فلما جاءوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم سلم حنيفة على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم سلم حذيم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا حذيم! ما رفعك إلينا؟ قال: هذا رفعني - وضرب فخذ حذيم، قال: أو ليس هذا حذيم؟ قال: يا رسول الله! إني رجل كثير المال علي ألف بعير وأربعون من الخيل سوى مالي في البيوت، خشيت أن يفجأني الموت أو أمر الله فأردت أن أوصي فأوصيت بمائة من الإبل التي كنا نسميها في الجاهلية المطيبة صدقة على يتيمي هذا - في حجرته، قال: فرأيت الغضب في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جثا على ركبتيه ثم قال: ألا لا - ثلاث مرار، إنما الصدقة خمس وإلا فعشر وإلا فخمس عشرة وإلا فعشرون وإلا فخمس وعشرون وإلا فثلاثون فإن كثرت فأربعون، قال: فبادره حنيفة قال: فأشهدك يا رسول الله؟ إنها أربعون من التي كنا نسميها المطيبة في الجاهلية، قال: فودعه حنيفة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فأين يتيمك يا أبا حذيم؟ قال: هو ذاك النائم، قال: وكان شبيه المحتلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لعظمت هذه هراوة يتيم، ثم إن حنيفة وبنيه قاموا إلى أباعرهم فقال حذيم: يا رسول الله! إن لي بنين كثيرة منهم ذو اللحى ومنهم دون ذلك وهذا أصغرهم وهو حنظلة، قسمت عليه يا رسول الله! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ادن يا غلام! فدنا منه فرفع يديه فوضعهما على رأسه ثم قال: بارك الله فيه! قال الذيال: فرأيت حنظلة يؤتي بالرجل الوارم وجهه والشاة الوارم ضرعها فيتفل في كفه ثم يضعها على ضلعته ثم يقول: بسم الله على أثر يد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم يمسح الورم فيذهب. "حم" وابن سعد والحسن ابن سفيان ويعقوب بن سفيان، "ع" والمنجنيقي في مسنده والبغوي والبارودي وابن قانع، "طب" وأبو نعيم، "ض" 1
٣٦٩٩٨۔۔۔ زیال بن عبیدہ نے حنظلہ سے یہ سنا کہ حنفیہ نے اپنے بیٹے حذیم سے کہا : اپنی اولد کو بلاؤ میں ان کو کچھ وصیت کرنا چاہتا ہوں ، انھوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کرلیا اور کہا : اے والد محترم ! سب موجود ہیں حنفیہ بولے : میری پہلی وصیت یہ ہے کہ وہ سو اونٹ جو کہ عہد جاہلیت میں مطیہ کہلاتے تھے ضرمس بن قطسیفہ نامی یتیم کے لیے بطور صدقہ سے حذیمم نے عرض کیا ابا جان ! میں نے اپنے بیٹوں کے متعلق یہ سنا ہے کہ اپنے والد کے سامنے اس کا اقرار کرلیتے ہیں اور اس کی وفات کے بعد آپس ہی میں تقسیم کرلیں گے اور اپنی طرح اس یتیم کو بھی حصہ دیں گے اس پر حنفیہ بولے : کیا تم نے یہ بات خود ان سھے سنی ہے ؟ بولے : ہاں فرمایا : میرے اور تمہارے درمیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ کریں گے چنانچہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ تشریف فرما تھے فرمایا : یہ آنے والے لوگ کون ہیں ؟ صحابہ (رض) نے جواب دیا : یہ اونٹوں والے حنفیہ ہیں جن کے سب سے زیادہ اونٹ جنگل میں چرتے ہیں پوچھا ان کے دائیں اور بائیں کون ہیں صحابہ (رض) نے عرض کیا : دائیں جانب تو ان کے بڑے صاحبزادے حذیم ہیں اور بائیں جانب نہ معلوم کون ہے۔
پھر فرماتے ہیں : جب ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے حنفیہ نے سلام کیا تو آپ نے فرمایا : کیسے تشریف لائے ہو ؟ حنفیہ بولے : مجھے یہ لوگ لائے ہیں اور انھوں نے حذیم کی ران پر ہاتھ مارا ان کی طرف اشارہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ حذیم نہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں یہ حذیم ہی ہے حنفیہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے کافی مال عطا کیا ہے میرے پاس ایک ہزار اونٹوں اور چالیس گھوڑوں کے علاوہ بہت سا مال گھروں میں پڑا ہے اور مجھے یہ خوف ہے ہ میں اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کیے بغیر مرنہ جاؤں چنانچہ میں نے سو اونٹ جو عہد جاہلیت میں مطیبہ (پاک اونٹ) کہلاتے تھے میں نے اپنے پروردہ یتیم کو صدقہ کرنے کی وصیت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہوگے ہیں پھر گھٹنوں کے بل گئے اور فرمایا : لاالہ اللہ جانوروں کا صدقہ پانچ رونہ دس پندہ ورنہ بیس ورنہ پچیس ورنہ تیس اور زیادہ چالیس کا ہوتا ہے چنانچہ حنفیہ نے جب یہ سنا تو فورا بولے : یارسول اللہ ! اس مطیبہ میں سے چالس اونٹ یتیم کو دے دیئے جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس اونٹوں کی اجازت دے دی پھر آپ نے پوچھا ابوحذیم ! تمہارا یتیم کہاں ہے ؟ وہ یتیم بالغ شیخ کے مشابہ تھا۔ فرمایا : یہ یتیم تو اچھا خاصا ہڈی والا ہے پھر حنفیہ اور ان کے بیٹے اٹھ کر اپنے اونٹوں کے پاس چلے گئے مزید فرماتے ہیں کہ جاتے جاتے حذیم نے کہا : یارسول اللہ ! میری اولاد میں ڈاڑھی والے اور امردونوں ہیں یارسول اللہ آپ اس حنظلہ (رض) (حنظلہ کہتے ہیں : میں سب سے چھوٹا تھا) کے لیے دعائے خیر کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹا میرے پاس آؤ چنانچہ حضرت حنظلہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگئے آپ نے ان کے سر پر دست اقدس رکھا اور یہ دعا کی : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے ذیال کہتے ہیں : میں نے اس کے بعد دیکھا کہ حنظلہ (رض) کے پاس کوئی ورم زرہ مرد کیا روم زدہ تھنوں والی بکری لائی جاتی آپ اپنے ہاتھوں پر تھتھکارتے اور پھر ہاتھوں کو ورم پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے ، بسم اللہ علی اثرید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورم بالکل ٹھیک ہوجاتا۔ (رواہ احمد بن حنبل والحسن ابن سفیان و یعقوب بن سفیان وابویعلی والمخجنیقی فی مسندہ والبغوی والباوردی وابن قائع والطبرانی و ابونعیم والضیاء)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔