HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37085

37075- عن زياد بن الحارث الصدائي قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعته على الإسلام، وأخبرت أنه بعث جيشا إلى قومي فقلت: يا رسول الله! اردد الجيش فأنا لك بإسلام قومي وطاعتهم! فقال لي: اذهب فردهم، فقلت: يا رسول الله! إن راحلتي قد كلت، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فردهم، قال الصدائي: وكتب إليهم كتابا، فقدم وفدهم بإسلامهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أخا صداء إنك لمطاع في قومك؟ فقلت: بل الله هو هداهم للإسلام، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أؤمرك عليهم! فقلت: بلى يا رسول الله! فكتب لي كتابا، فقلت: يا رسول الله! مر لي بشيء من صدقاتهم، قال: نعم، فكتب لي كتابا آخر. قال الصدائي: وكان ذلك في بعض أسفاره فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم منزلا فأتاه أهل ذلك المنزل يشكون عاملهم ويقولون: آخذنا بشيء كان بيننا وبين قومه في الجاهلية، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أو فعل؟ فقالوا: نعم. فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى أصحابه وأنا فيهم فقال: لا خير في الإمارة لرجل مؤمن قال الصدائي: فدخل قوله في نفسي، ثم أتاه آخر فقال: يا نبي الله! أعطني، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من سأل الناس عن ظهر غنى فصداع في الرأس وداء في البطن، فقال السائل: فأعطني من الصدقة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها فجزأها ثمانية أجزاء، فإن كنت من تلك الأجزاء أعطيتك، قال الصدائي: فدخل ذلك في نفسي أني سألته من الصدقات وأنا غني، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتشى1 من أول الليل فلزمته وكنت قويا وكان أصحابه ينقطعون عنه ويستأخرون حتى لم يبق معه أحد غيري، فلما كان أوان أذان الصبح أمرني فأذنت، فجعلت أقول: أقيم يا رسول الله؟ فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر ناحية الشرق إلى الفجر فيقول: لا، حتى إذا طلع الفجر نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتبرز ثم انصرف إلي وقد تلاحق أصحابه فقال: هل من ماء يا أخا صداء؟ فقلت: لا إلا شيء قليل لا يكفيك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اجعله في إناء ثم ائتني به، ففعلت، فوضع كفه في الماء فرأيت بين كل أصبعين من أصابعه عينا تفور، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: لولا أني أستحيي من ربي لسقينا وأسقينا، ناد في أصحابي من له حاجة في الماء؟ فناديت فيهم، فأخذ من أراد منهم، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأراد بلال أن يقيم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أن أخا صداء هو أذن، ومن أذن فهو يقيم، قال الصدائي: فأقمت الصلاة، فلما قضي رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة أتيته بالكتابين فقلت: يا رسول الله! اعفني من هذين، فقال: ما بدا لك؟ فقلت: سمعتك يا نبي الله تقول: لا خير في الإمارة لرجل مؤمن، وأنا أومن بالله ورسوله؛ وسمعتك تقول للسائل: من سأل الناس عن ظهر غنى فهو صداع في الرأس وداء في البطن، وسألتك وأنا غني؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هو ذا، فإن شئت فأقبل، وإن شئت فدع، فقلت: أدع، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: فدلني على رجل أؤمره عليكم، فدللته على رجل من الوافدين الذين قدموا عليه، فأمره عليهم، ثم قلنا يا نبي الله! إن لنا بئرا إذا كان الشتاء وسعنا ماؤها واجتمعنا عليها، وإذا كان الصيف قل ماؤها فتفرقنا على مياه حولنا وقد أسلمنا وكل من حولنا عدو لنا فادع الله لنا في بئرنا أن يسعنا ماؤها فنجتمع عليها ولا نتفرق، فدعا سبع حصيات ففركهن في يده ودعا فيهن ثم قال: اذهبوا بهذه الحصيات فإذا أتيتم البئر فألقوا واحدة واحدة واذكروا اسم الله؛ قال الصدائي: ففعلنا ما قال لنا فما استطعنا بعد أن ننظر إلى قعرها."البغوي، كر وقال: هذا حديث حسن".
٣٧٠٧٥۔۔۔ حضرت زیادبن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کرنے کی شرط پر بیعت کرلی ایک مرتبہ مجھے خبر ملی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قوم کی طرف لشکر بھیجا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ لشکر کو واپس بلالیں میں اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور ان کی اطاعت بجالانے کی ضمانت دیتا ہوں آپ نے مجھے حکم دیا : تم خود جاؤ اور لشکر کو واپس بلالاؤ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری سواری تھکی ماندی ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص بھیجا اور اس نے لشکر واپس کردیا صدائی (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قوم کی طرف ایک خط لکھا جس کی پاداش میں قوم کا وفد قبول اسلام کی خبر لے کر خبر لے کر حاضر ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے صدائی ! تیری بات مانی جاتی ہے میں نے جواب دیا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے میری قوم کو اسلام کی ہدایت دی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا میں تمہیں قوم پر امیر نہ مقرر کردوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جی ہاں مجھے مقرر کردیں۔ آپ نے میرے لیے فرشتہ تحریر کردیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے قوم کے صدقات کے بارے میں حکم دیں فرمایا : جی ہاں : آپ نے ایک اور نوشتہ میرے لیے حوالہ قرطاس کیا صدائی کہتے ہیں : یہ واقعہ آپ کے بعض اسفار میں پیش آیا تھا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اس جگہ کے باسی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے عامل کی شکایت کرنے لگے اور کہا : ہمارا عامل جاہلیت کی دشمنی کا مواخذہ لینا چاہتا ہے جو ہمارے اور اس کی قوم کے درمیان جاہلیت میں تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہ ایسا کرتا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) کی طرف التفات کیا میں بھی ان میں شامل تھا ارشاد فرمایا : مومن شخص کی ایسی امارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے صدائی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان میرے دل میں رچ بس گیا پھر آپ کے پاس ایک اور شخص آیا اور کہا : اے اللہ کے نبی ! مجھے کچھ عطا کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مالدار ہوتے ہوئے سوال کیا وہ اس کے لیے سرکادرد ہے اور پیٹ میں بیماری ہے مسائل نے کہا : مجھے صدقہ میں سے عطا کریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ صدقات کے متعلق کسی نبی یا غیر نبی کے فیصلہ سے قطعی راضی نہیں ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات کے متعلق خود آٹھ حصے کردیئے ہیں اگر تو ان حصوں میں آتا ہوں میں تمہیں صدقہ دوں گا صدائی (رض) کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان بھی میرے دل و دماغ میں رچ بس گیا کہ میں مالدار ہوں جب کہ میں نے آپ سے صدقہ کا سوال کیا تھا اس کے بعدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے اول حصہ میں روانہ ہوگئے میں آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، چونکہ میں قوی شخص تھا جب کہ آپ صحابہ (رض) آپ سے کٹنے لگے اور آہستہ آہستہ پیچھے رہنے لگے حتیٰ کہ ایسا وقت بھی آیا آپ کے ساتھ میرے سوا کوئی بھی نہیں تھا۔ جب صبح کی اذان کا وقت قریب ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا میں نے اذان دی میں کہنے لگا : یارسول اللہ ! اقامت کہوں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانب مشرق دیکھنا شروع کردیا کہ طلوع فجر ہوا ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا : ابھی اقامت نہ کہو کہ جب طلوع فجر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے پھر میری طرف واپس لوٹے اتنے میں آپ کے صحابہ (رض) بھی پہنچ چکے تھے آپ نے فرمایا : اے صدائی تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے پاس بہت تھوڑا ساپانی ہے جو آپ کو کافی نہیں ہوسکتا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے ایک برتن میں ڈالو اور پھر اسے میرے پاس لے آؤں آپ نے اپنی ہتھیلی پانی میں داخل کی میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنے رب تعالیٰ سے حیاء نہ آتی ہم یہ پانی پیتے اور دوسروں کو بھی پلاتے میرے صحابہ (رض) میں اعلان کرو اگر کسی کو پانی کی ضرورت ہو ؟ میں نے اعلان کیا جسے پانی کی ضرورت تھی اس نے پانی لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوگئے اقامت کہنے کے لیے بلال (رض) تیاری کرنے لگے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اقامت کہنے سے منع کردیا اور فرمایا : صدائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دیتا ہے وہی اقامت کہنے کا حق رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ نے نماز پڑھائی اور جب فارغ ہوئے میں آپ کے لکھے ہوئے دونوں خطوط آپ کے پاس لے آیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا عذر قبول کیجئے ارشاد فرمایا : بھلا تمہیں کیا سوجھا ؟ میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے کہ : مومن شخص کی امارت میں کوئی بھلائی نہیں۔ جب کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں میں نے آپ کو ایک سائل سے فرماتے سنا : جس شخص نے مالدار ہوتے ہوئے سوال کیا وہ سر میں درد ہے اور پیٹ میں بیماری ہے جب کہ میں نے آپ سے سوال کیا ہے حالانکہ میں مالدار ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا ہی ہے اگر چاہو تو امارت قبول کرو اگر چاہو تو چھوڑ دو میں نے عرض کیا : میں امارت (گورنری) چھوڑتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا پھر کوئی ایسا آدمی مجھے بتاؤ جسے میں تمہارے اوپر امیر مقرر کردوں میں نے وفد میں شریک ایک آدمی کا نام لیا پھر ہم نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! ہمارا ایک کنواں ہے سردیوں میں اس کا پانی کافی ہوتا ہے اور ہم سب اس پر جمع ہوجاتے ہیں لیکن گرمیوں میں اس کا پانی کم پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں مضافات سے پانی لانا پڑتا ہے اب جب ہم اسلام لاچکے ہیں اردگرد کے لوگ ہمارے دشمن ہوجائیں گے وہ ہمیں پانی نہیں دیں گے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تاکہ ہمارے کنویں میں پانی سارا سال جاری رہے جو ہمیں کافی ہے اور تاکہ ہم ادھر ادھر پانی لینے نہ جائیں۔ آپ نے سات کنکریان منگوائیں انھیں اپنے ہاتھوں میں الٹاپلٹا اور ان پر دعا پڑھی پھر فرمایا : یہ کنکریاں لے جاؤ اور اللہ کا نام لیکر ایک ایک کرکے کنویں میں ڈال دو صدائی (رض) کہتے ہیں ہم نے ایسا ہی کیا پھر اس کے بعد ہم کنویں کی گہرائی نہیں دیکھ سکے۔ (رواہ البغوی وابن عساکر وقال ھذا حدیث حسن)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37085 | undefined - Hadith.one