HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37139

37128 عن سلمان قال : كنت من أبناء أساورة فارس وكنت في كتاب ومعي غلامان وكانا إذا رجعا من عند معلمهما أتيا قسا فدخلا عليه فدخلت معهما فقال : ألم أنهكما أن تأتياني بأحد ؟ فجعلت اختلف إليه حتى كنت أحب إليه منهما ، فقال لي : إذا سألك أهلك : من حبسك ؟ فقل : معلمي ، وإذا سألك معلمك : من حبسك ؟ فقل : أهلي : ثم إنه أراد أن يتحول فقلت له : أنا أتحول معك ، فتحولت معه فنزلت بقرية ، فكانت امرأة تأتيه ، فلما حضر قال : يا سلمان ! احفر عند رأسي ، فحفرت عند رأسه فاستخرجت جرة من دراهم ، فقال لي : صبها على صدري ، فصببتها على صدره ، فكان يقول : ويل لاقتنائي ! ثم إنه مات ، فقلت للرهبان : من لي برجل عالم أتبعه ؟ فدلوني على رجل ، فأتينه فقلت : ما جاء بي إلا طلب العلم ، قال : فاني والله ما أعلم اليوم رجلا أعلم من رجل خرج بأرض تيماء ! وإن تنطلق الآن توافقه ، وفيه ثلاث آيات : يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة ، وعند غضروف كتفه اليمنى خاتم النبوة مثل بيضة الحمامة ، لونها لون جلده ، فانطلقت حتى مررت بقوم من الاعراب فاستعبدوني فباعوني ، حتى اشترتني امرأة من المدينة ، فسمعتهم يذكرون النبي صلى الله عليه وسلم ، فقلت لها : هبي لي يوما ! قالت : نعم ، فانطلقت فاحتطبت حطبا فبعته ، وصنعت طعاما فأنيت به النبي صلى الله عليه وسلم وكان يسيرا فوضعته بين يديه ، فقال : ما هذا ؟ قلت : صدقة ، فقال لاصحابه : كلوا ولم يأكل ، قلت : هذا من علاماته ، ثم مكثت ما شاء الله أن أمكث ، ثم قلت لمولاتي : هبي لي يوما ! قالت : نعم فانطلقت فاحبطبت حطبا فبعته بأكثر من ذلك وصنعت طعاما ، فأتيت به النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس بين أصحابه فوضعته بين يديه ، فقال : ما هذا ؟ قلت : هدية ، فوضع يده وقال لاصحابه : خذوا بسم الله ، وقمت خلفه ، فوضع راداءه فإذا خاتم النبوة ! فقلت : أشهد أنك رسول الله ، قال : وما ذاك ؟ فحدثته عن الرجل ، ثم قلت : أيدخل الجنة يا رسول الله ؟ فانه حدثني أنك نبي ، قال : لن يدخل الجنة إلا نفس مسلمة (ش).
٣٧١٢٨۔۔۔ حضرت سلمان (رض) فرماتے ہیں : میں عظماء فارس کے بیٹوں میں سے ہوں میرا شمار کاتبین میں تھا میری معیت میں دو غلام تھے یہ غلام جب اپنے معلم سے واپس لوٹتے راستہ ایک راہب کے پاس جاتے ایک دن میں بھی ان کے ساتھ راہب کے پاس چلا گیا راہب بولا : کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ میرے پاس صرف ایک آدمی آیاکرو، اس کے بعد میں راہب کے پاس آنا جانا شروع کردیا اور یوں میں غلاموں کی نسبت راہب کو زیادہ محبوب ہوگیا۔ راہب نے مجھے کہا تم سے گھروالے تاخیر کی بابت پوچھیں کہہ دو : معلم نے مجھے تاخیر کردی اگر معلم پوچھے کہہ دو گھروالوں نے تاخیر کردی کچھ عرصہ کے بعد راہب نے وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ کرلیا میں نے کہا : میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا چنانچہ میں بھی اس کے ساتھ ہولیا اور ہم ایک بستی میں جاپہنچے وہاں ایک عورت راہب کے پاس آتی جب راہب کی وفات کا وقت قریب ہوا س نے کہا : اے سلمان ! میرے سر کے پاس ایک گڑھا کھود میں نے گڑھا کھودا گڑھے سے درہموں بھرا ایک مٹکا برآمد ہوا راہب نے مجھے حکم دیا یہ دراہم میرے سینے پر بہادر میں نے دراہم اس کے سینے پر بہادیئے وہ کہتا جارہا میرے اعتماد واقتناء کی ہلاکت پھر وہ مرگیا۔ اس کے بعد میں نے دوسرے راہبوں سے کہا : مجھے کوئی ایسا عالم شخص بتاؤ جس کی میں پیروی کرلوں ؟ راہبوں نے ایک شخص کا مجھے بتایا، میں اس کے پاس آگیا اور اس سے کہا : میں صرف حصول علم کے لیے تیرے پاس آیاہوں۔ راہب بولا اللہ کی قسم ! سوائے ایک شخص کے میں کسی کو نہیں جانتا جس کا سرزمین تیماء میں ظہور ہونے والا ہے۔ اگر تم ابھی جاؤ ےتو اس سے مل سکتے ہو۔ یاد رکھو اس میں تین نشانیاں ہیں۔ ہدیہ کھالیتا ہے صدقہ نہیں کھاتا اور دائیں کاندھے کی ہڈیوں کے جو ڑپر مہرنبوت ہے کو کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہے اس کا رنگ کھال کا رنگ ہے ، چنانچہ میں حق کی تلاش میں چل پڑا اور گنواروں کی بستی پر سے میرا گزرہوا انھوں نے میرا گزرہو انھوں نے مجھے پکڑ کر غلام بنالیا اور پھر مجھے بیچ ڈالا، حتیٰ کہ اہل مدینہ کی ایک عورت نے مجھے خرید لیا میں نے مدینہ میں لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا میں نے اپنی مالکن سے کہا : مجھے ایک دن کی اجازت دو وہ مان گئی ، میں نے لکڑیاں جمع کیں اور انھیں بیچ کر کھاناپکایا اور کھانا لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگیا، کھانا تھوڑا تھا میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ صدقہ ہے آپ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا : یہ کھاؤ جب کہ آپ نے خود نہیں تناول فرمایا میں نے سوچا ایک نشانی صحیح ثابت ہوئی۔ پھر کچھ عرصہ بعد میں نے اپنی مالکہ سے کہا مجھے ایک دن کی اجازت دو اس نے کہا : جی ہاں میں نے لکڑیاں جمع کیں اور انھیں بیچ کر کھاناتیار کیا اور اسے آپ کے پاس آپ کے پاس لے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کے درمیان تشریف فرما تھے میں نے کھانا آپ کے سامنے رکھ دیا آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ ہدیہ ہے۔ آپ نے تناول فرمانے کے لیے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور صحابہ سے بھی کھانے کو فرمایا : میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ فورا سمجھ گئے اور اپنی چادر کاندھے سے اتاردی میں نے جو آنکھ اٹھا کر دیکھا مہر نبوت کو سامنے پایا میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ میں نے اپنے ساتھی شخص کا واقعہ سنایا پھر میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ جنت میں داخل ہوگا ؟ چونکہ اسی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان شخص ہی داخل
ہوگا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔