HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37200

37190- عن ميمون بن مهران عن ابن عباس قال: مررت بالنبي صلى الله عليه وسلم وقد انصرف من صلاة الظهر وعلي ثياب بياض وهو يناجي دحية الكلبي فيما ظننت وكان جبريل ولا أدري، فقال جبريل للنبي صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله! هذا ابن عباس أما إنه لو سلم علينا لرددنا عليه، أما إنه شديد وضح الثياب، ولتلبس ذريته من بعده السواد، فلما عرج جبريل وانصرف النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما منعك أن تسلم إذ مررت آنفا؟ فقلت: يا رسول الله! مررت بك وأنت تناجي دحية الكلبي فكرهت أن أقطع نجواكما بردكما علي السلام، قال: لقد أثبت النظر، ذلك جبريل وليس أحد رآه غير نبي إلا ذهب بصره، وبصرك ذاهب وهو مردود عليك يوم وفاتك، قال: فلما مات ابن عباس وأدرج في أكفانه انقض طائر أبيض فأتى بين أكفانه وطلب فلم يوجد، فقال عكرمة مولى ابن عباس: أحمقى أنتم؟ هذا بصر الذي وعده رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرد عليه يوم وفاته، فلما أتوا به القبر ووضع في لحده تلقى بكلمة سمعها من كان على شفير القبر "يا أيتها النفس المطمئنة. ارجعي إلى ربك راضية مرضية. فادخلي في عبادي وادخلي جنتي". "كر".
٣٧١٨٩۔۔۔ میمون بن مہران ابن عباس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں : میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس سے گزرا دراں حالیکہ آہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر واپس لوٹ رہے تھے میں نے سفید رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے آپ وحیہ کلبی سے محو گفتگو تھے فی الواقع وہ جبرائیل امین تھے جبرائیل امین بولے : یارسول اللہ ! یہ ابن عباس ہے اگر یہ ہمیں سلام کرتا ہم اس کے سلام کا جواب دیتے ابن عباس نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں جب کہ ان کی اولاد سیاہ کپڑے پہنے گی جب جیرائیل امین واپس چلے گئے ، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی واپس لوٹ آئے تو آپ نے ابن عباس (رض) سے فرمایا : جب تم ہمارے پاس سے گزرے تم نے ہمیں سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جس وقت میں آپ کے پاس سے گزرا آپ دحیہ کلبی کے ساتھ سرگوشی کررہے تھے میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ آپ کی شرگوشی منقطع کردوں آپ نے فرمایا : واقعی تم نے گہری نظر رکھی ہے، یہ جبرائیل امین تھے سو نبی کی علاوہ اگر کوئی اور انھیں دیکھ لے تو اس کی بصارت جاتی رہے گی تمہاری بصارت بھی ختم ہوجائے گی اور پھر وفات کے دن تمہیں واپس لوٹا دی جائے گی عکرمہ کہتے ہیں : جب ابن عباس (رض) دنیا سے رخصت ہوئے اور انھیں کفن میں لپیٹ دیا گیا ، اتنے میں ایک پرندہ آیا اور ان کے کفن میں گھس گیا لوگ دیکھ کر اسے کفن میں تلاش کرنے لگے لیکن پرندہ دستیاب نہ ہوا عکرمہ بولے : کیا تم لوگ احمق ہو ؟ یہ وہی بصارت ہے جیسے دوبارہ لوٹنے کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ کیا تھا کہ وفات کے دن بصارت واپس لوٹ آئے گی جب لوگوں نے ابن عباس (رض) کی میت قبر میں رکھی تو قبر پر کھڑے لوگوں نے یہ کلمات سنے۔
یا ایھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فاخلی فی عبادی وادخلی جنتی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف خوش وخرم واپس لوٹ جا میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ (رواہ ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37200 | undefined - Hadith.one