HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37272

37262- "مسند طلحة بن عبيد الله" قال الحاكم في الكنى حدثنا أبو حاتم مكي بن عبدان ثنا أحمد يعني ابن يوسف السلمي ثنا حماد بن سلمان الحراني ثنا عيسى بن عبد الرحمن الأنصاري أبو عبادة قال أخبرني ابن شهاب أخبرني ابن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن إسماعيل بن طلحة ابن عبيد الله عن أبيه قال: أردت مالا لي بالغابة فأدركني الليل فقلت: لو أني ركبت فرسي إلى أهلي لكان خيرا لي من المقام ههنا، فركبت حتى إذا جئت ودنوت من قبور الشهداء القناة استوحشت فقلت: لو أني ربطت فرسي فآويته إلى قبر عبد الله بن عمرو، ففعلت: فوالله ما هو إلا أن وضعت رأسي سمعت قراءة في القبر ما سمعت قراءة قط أحسن منها! فقلت: هذا في القبر لعله في الوادي فاخرج إلى الوادي، فإذا القراءة في القبر، فرجعت فوضعت رأسي عليه فإذا قراءة لم أسمع مثلها قط، فأستأنست وذهب عني النوم، فلم أزل أسمعها حتى طلع الفجر، فلما طلع الفجر هدأت القراءة وهدأ الصوت حتى أصبحت، فقلت: لو جئت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فجئت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال: ذاك عبد الله بن عمرو! ألم تعلم يا طلحة أن الله عز وجل قبض أرواحهم فجعلها في قناديل من زبرجد وياقوت علقها وسط الجنة؟ فإذا كان الليل ردت عليهم أرواحهم فلا تزال كذلك حتى إذا طلع الفجر ردت أرواحهم إلى مكانهم الذي كانت فيه. "قال في المغني: عيسى بن عبد الرحمن عن الزهري قال ن وغيره: متروك".
٣٧٢٦١۔۔۔” مسند طلحہ بن عبیداللہ “ حاکم نے مندرجہ ذیل سند سے حدیث ذکر ہے ابوحاکم مکی بن عبدان ، احمد یعنی ابن یوسف سلمی ، حماد بن سلمان حرانی ، عیسیٰ بن عبدالرحمن انصار ابوعبادہ ابن شہاب ابن عامر بن سعد ابی وقاص، اسماعیل بن طلحہ بن عبیدا للہ اپنے والد سے حدیث نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں اپنے مال مویشوں کو جنگل میں لے گیا، جنگل میں مجھے رات ہوگئی میں نے کہا اگر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر چلاجاؤں میرے لیے بہتر ہوگا میں گھوڑے پر سوار ہوا حتیٰ کہ جب میں شہداء کی قبروں پہنچا مجھے وحشت نے گھیرلیا میں نے کہا : اگر میں اپنا باندھ کر عبداللہ بن عمرو کی قبر کے پاس چلاجاؤں چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا بخدا ! میں نے قبر پر کو نہی سر رکھا مجھے قبر سے قرات کی آواز سنائی دی اتنی خوبصورت قراب میں نے کبھی نہیں سنی میں نے کہا : قرات قبر سے ہورہی ہے عین ممکن ہے وادی میں بھی ہورہی ہو لہٰذا مجھے وادی کی طرف نکل جانا چاہیے لیکن مجھے احساس ہوا کہ واقعی قرات قبر ہورہی ہے۔ میں واپس لوٹ آیا اور سرقبر پر رکھ دیا کیا خوب قرات تھی میں نے ایسی قرات کبھی نہیں سنی میں اس قرات سے پھر پور ہوگیا اور میری نیند جاتی رہی طلوع فجر تک میں قرات سنتا رہا۔ جب طلوع فجر ہوئی قراءت کی آواز دھیمی پڑتی گئی حتیٰ کہ صبح ہوئی میں نے کہا : اگر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں اور آپ کو یہ ماجرا سناؤں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارا واقعہ سنایا فرمایا : یہ عبداللہ بن عمرو تھا اے طلحہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ روحیں قبض کرلیتا ہے اور انھیں قندیلوں میں رکھ دیتا ہے جو زبرجد اور یا قوت کی بنی ہوتی ہیں انھیں جنت کے وسط میں لٹکادیا گیا ہے ؟ جب رات ہوتی ہے ارواح واپس لوٹا دی جاتی ہیں جب طلوع فجر ہوتا ہے اپنے اصلی مقامات کی طرف واپس لوٹا دی جاتی ہیں جس میں وہ ہوتی ہیں۔
کلام :۔۔۔ حدیث صیعف ہے چنانچہ معنی میں لکھا ہے کہ عیسیٰ بن عبدالرحمن عن الزھری کے متعلق نسائی وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ متروک ہے۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37272 | undefined - Hadith.one