HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37282

37272- "مسند أسامة بن زيد" إن النبي صلى الله عليه وسلم ركب حمارا عليه إكاف تحته قطيفة فدكية1 فأردفني وراءه وهو يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن خزرج وذاك قبل وقعة بدر حتى مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الاوثان واليهود فيهم عبد الله بن أبي وذلك قبل أن يسلم عبد الله بن أبي وفي المجلس عبد الله بن رواحة ، فلما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر عبد الله بن أبي انفه بردائه وقال : لا تغبروا علينا ، فسلم عليه النبي صلى الله عليه وسلم ثم وقف فنزل ، فدعاهم إلى الله وقرأ عليهم القرآن ، فقال عبد الله بن أبي : أيها المرء لا أحسن من هذا ، إن كان ما تقول حقا فلا تغشنا في مجالسنا وارجع إلى رحلك ، فمن جاء منا فاقصص عليه ، فقال عبد الله بن رواحة : بل اغشنا في مجالسنا فانا نحب ذلك ، فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى هموا أن يتواثبوا ، فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم ، ثم ركب دابته حتى دخل على سعد بن عبادة فقال : أي سعد ! ألم تسمع ما قال أبو حباب ؟ قال كذا وكذا ! قال : اعف عنه يا رسول الله واصفح ، فو الله ! لقد أعطاك الله الذي أعطاك ، ولقد اصطلح أهل هذه البحيرة أن يتوجوه فيعصبوه بالعصابة ، فلما رد الله ذلك بالحق الذي أعطاكه شرق بذلك فذلك فعل به ما رأيت ، فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم ، وكان النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يعفون عن المشركين وأهل الكتاب كما أمره الله تعالى ويصبرون على الاذى ، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتأول في العفو ما أمره الله حتى أذن الله فيهم ، فلما غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا وقتل الله به من قتل من صناديد قريش قال ابن أبي ومن معه من المشركين عبدة الاوثان : هذا أمر قد توجه ، فبايعوا رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فأسلموا (حم ، م ، خ ، ن والعدني ، طب ، ق في الدلائل ، وانتهى حديث م عند قوله : فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم.
٣٧٢٧١۔۔۔” مسند اسامہ بن زید “ حضرت اسامہ بن زید کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گدھے پر سوار ہوئے گدھے پر پالان رکھا ہوا تھا اور آپ کے نیچے فد کی چادر تھی آپ نے مجھے اپنے پیچھے بیٹھا لیا آپ حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کرنے بنی حارث بن خزرج میں جارہے تھے یہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے آپ کا گزر ایک مجلس کے پاس سے ہوا جس میں مسلمان مشرکین بتوں کے پچاری اور یہود اکٹھے بیٹھے تھے ان میں عبداللہ بن ابی بھی بیٹھا ہوا تھا یہ عبداللہ بن ابی کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) بھی تھے جب مجلس کے قریب گدھے نے گزرتے گزرتے غباراڑائی عبداللہ بن ابی نے ناک کپڑے سے ڈھانپ دی اور بولا ہمارے اوپر غبارمت ڈالو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کیا رکے اور نیچے اتر آئے مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا، عبداللہ بن ابی لولا : اے آدمی : اس سے کوئی بات اچھی ہیں۔ جو کچھ تم کہتے ہو وہ اگر حق ہے تو ہماری مجلسوں میں ہمارے پاس مت آؤ اور اپنی سواری پر واپس چلے جاؤ۔ ہم میں سے جو شخص آئے اسے سنادیا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ (رض) بولے : بلکہ آپ ہماری مجالس میں تشریف لائیں ہم اسے پسند کرتے ہیں پس اسی ہر مسلمان مشرکین اور یہود ایک دوسرے سے الجھ پڑے حتیٰ کہ مارنے اور مرنے نوبت پہنچ گئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ننے سب کو ٹھنڈا کیا پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا : اے سعد کیا تم نے ابوحباب کو نہیں سنا کہ کیا کہتا ہے ؟ وہ ایسی اور ایسی باتیں کرتا ہے ؟ سعد (رض) نے کہا : سعد (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے معاف کریں اور درگزر کریں اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت خوبیاں عطا کررکھی ہیں۔ جب کہ اس بحیرہ کے رہنے والوں نے اتفاق کرلیا ہے کہ وہ اسے تاج پہنچائیں گے اور اسے ایک مضبوط جماعت بھی فراہم کریں گے جب اللہ تعالیٰ نے اس کے باطل خیال کو آپ کو عطاکئے گئے حق سے ردکردیاتو اسے ایک طرح کا اچھو لگ گیا یہ سب کچھ اسی کی یاداش میں کیا ہے جو آپ نے دیکھا ہے۔ تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) مشرکین واہل کتاب کو معاف کردیتے تھے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرلیتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کا حکم دیا ہے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاف کرنے کے لیے بہانے ڈھوتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو بھی معاف کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غزوہ بدر میں فتح و کامرانی نصیب ہوئی اور اس جنگ میں قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تو یہ صورتحال دیکھ کر ابن ابی اور اس کے ساتھ مشرکین بتوں کے بچاریوں نے کہا : یہ اسلام تو غلبہ کی طرف آتا دکھائی دے رہا ہے چنانچہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کرلی اور اسلام قبول کرلیا۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم و البخاری والنسائی والعدنی والبیہقی فی الدلائل جب کہ مسلم کی روایت یہاں تک ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کردیا) ۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37282 | undefined - Hadith.one