HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37303

37293- عن عمرو بن مرة الجهني قال: خرجنا حجاجا في الجاهلية في جماعة من قومي فرأيت في المنام وأنا بمكة نورا ساطعا من الكعبة حتى أضاء لي جبل يثرب وأشعر جهينة، وسمعت صوتا في النور وهو يقول: انقشعت الظلماء، وسطع الضياء، وبعث خاتم الانبياء ! ثم أضاء لي إضاءة أخرى حتى نظرت إلى قصور الحيرة وأبيض المدائن ، وسمعت صوتا في النور وهو يقول : ظهر الاسلام ، وكسرت الاصنام ، ووصلت الارحام ، فانتبهت فزعا فقلت لقومي : والله ليحدثن في هذا الحي من قريش حدث ، فأخبرتهم بما رأيت ، فلما انتهيت إلى بلادنا جاء الخبر أن رجلا يقال له أحمد قد بعث ، فخرجت حتى أتيته وأخبرته بما رأيت ، فقال : يا عمرو بن مرة ! أنا النبي المرسل إلى العباد كافة ، أدعوهم إلى الاسلام ، وآمرهم بحقن الدماء وصلة الارحام ، وعبادة الله وحده ورفض الاصنام ، وبحج البيت وصيام شهر رمضان من اثني عشر شهرا ، فمن أجاب فله الجنة ومن عصى فله النار ! فآمن يا عمرو يؤمنك الله من هول جهنم ، فقلت : أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله ، آمنت بكل ما جئت به من حلال وحرام ، وإن رغم ذلك كثير من الاقوام ، ثم أنشدته أبياتا قلتها حين سمعت به ، وكان لنا صنم وكان أبي سادنه ، فقمت إليه فكسرته ثم لحقت بالنبي صلى الله عليه وسلم وأنا أقول : شهدت بأن الله حق وإنني * لآلهة الاحجار أول تارك وشمرت عن ساقي الازار مهاجرا * أجوب إليك الوعث بعد الدكادك لاصحب خير الناس نفسا ووالدا * رسول مليك الناس فوق الحبائك فقال النبي صلى الله عليه وسلم : مرحبا بك يا عمرو ! فقلت : بأبي أنت وأمي ! ابعث بي إلى قومي لعل الله أن يمن بي عليهم كما من بك علي ، فبعثني فقال : عليك بالرفق والقول السديد ولا تكن فظا ولا متكبرا ولا حسودا ، فأتيت قومي فقلت : يا بني رفاعة ! بل يا معشر جهينة ! إني رسول رسول الله إليكم أدعوكم إلى الاسلام ، وآمركم بحقن الدماء وصلة الارحام ، وعبادة الله وحده ورفض الاصنام ، وبحج البيت وصيام شهر رمضان شهر من اثني عشر شهرا ، فمن أجاب فله الجنة ومن عصى فله النار ، يا معشر جهينة ! إن الله جعلكم خيار من أنتم منه ، وبغض إليكم في جاهليتكم ما حبب إلى غيركم من العرب ، فإنهم كانوا يجمعون بين الاختين ، والغزاة في الشهر الحرام ، ويخلف الرجل على امرأة أبيه ، فأجيبوا هذا النبي المرسل من بني لؤي بن غالب تنالوا شرف الدنيا وكرامة الآخرة ، فما جاءني إلا رجل منهم فقال : يا عمرو بن مرة ! أمر الله عيشك ! أتأمرنا برفض آلهتنا وأن نفرق جمعنا وأن تخالف دين آبائنا الشيم العلى إلى ما يدعونا إليه هذا القرشي من أهل تهامة ؟ لا حبا ولا كرامة ، ثم أنشأ الخبيث يقول : إن ابن مرة قد أتى بمقالة * ليست مقالة من يريد صلاحا إني لاحسب قوله وفعاله * يوما وإن طال الزمان ذباحا ليسفه الاشياخ ممن قد مضى * من رام ذلك لا أصاب فلاحا فقال عمرو : الكاذب مني ومنك أمر الله عيشه وابكم لسانه واكمه إنسانه ! قال : فوالله ما مات حتى سقط فوه وعمي وخرف وكان لا يجد طعم الطعام ، فخرج عمرو بمن أسلم من قومه حتى اتوا النبي صلى الله عليه وسلم ، فحياهم ورحب بهم وكتب لهم كتابا هذه نسخته : (بسم الله الرحمن الرحيم ، هذا كتاب أمان من الله العزيز على لسان رسوله بحق صادق وكتاب ناطق مع عمرو بن مرة لجهينة بن زيد ، إن لكم بطون الارض وسهولها وتلاع الاودية وظهورها عن أن ترعوا نباتها وتشربوا ماءها ، على أن تؤدوا الخمس وتصلوا الخمس ، وفي الغنيمة والصريمة شاتان إذا اجتمعتا ، فان فرقتا فشاة شاة ، ليس على أهل المثيرة صدقة ولا على الواردة لبقة ، والله شهيد على ما بيننا ومن حضر من المسلمين (كتاب قيس بن شماس ، الروياني ، كر)
٣٧٢٩٢۔۔۔ حضرت عمرو بن مرہ جہنی (رض) کہتے ہیں : ہم جاہلیت میں اپنی قوم کی ایک جماعت کی ساتھ صبح کے لیے روانہ ہوئے ط جب ہم مکہ پہنچے میں نے خواب دیکھا گویا ایک نور ہے جو مکہ سے نکل رہا ہے اس سے یثرب کے پہاڑ روشن ہوئے اور میں نے جہینہ کی بستی دیکھ لی، اس نور میں میں نے ایک آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا تاریکیاں چھٹ گئی ہیں روشنی چمک اٹھی ہے اور خاتم الانبیاء مبعوث ہوچکے ہیں پھر ایک روشنی بلند ہوئی جس میں میں نے حیرہ کے محلات اور مدائن کی سفیدی دیکھی اس نور میں بھی ایک آواز سنی کہہ رہا تھا : اسلام ظاہر ہوچکا ہے اور بت ٹوٹ چکے ہیں صلہ رحمی کا وقت آن پہنچا میں گھبراکر اٹھ بیٹھا اور میں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا : اللہ کی قسم ! قریش کی اس بستی میں کوئی نیا حادثہ رونما ہونے والا ہے میں نے اپنی قوم کو کو خواب سنایا جب ہم اپنے علاقہ میں پہنچے خبر آگئی کہ ایک شخص جسے احمد کے نام سے پکارا جاتا ہے مبعوث ہوچکا ہے میں اس شخص سے ملنے اپنے گھر سے چل پڑا جب اس کے پاس پہنچا میں نے اسے خواب سنایا اس نے کہا : اے عمرو بن مرہ ! میں نبی مرسل ہوں اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے میں انھیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں میں انھیں جانوں کی حفاظت اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہوں ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتا ہوں اور بتوں کی عبادت سے منع کرتا ہوں میں انھیں بیت اللہ کے حج اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ رمضان کے روزوں کا حکم دیتا ہوں جس نے میری دعوت قبول کرلی، اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے دوزخ ہے اے عمرو ! ایمان لے آؤ اللہ تعالیٰ تمہیں دوزخ کی ہول ناکی سے محفوظ فرمائے گا میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں آپ حلال و حرام کی جو تعلیمات بھی لائے ہیں ان پر ایمان لاتا ہوں اگرچہ یہ بہت ساری اقوام کو براہی کیوں نہ لگے۔ پھر میں نے آپ کی مدح میں بہت سارے اشعار کہے۔ ہمارا ایک بت تھا میرا باپ اس کا منتظم تھا میں نے اسے توڑدیا پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جاملا اور میں نے یہ اشعار کہے :
شھدت بان اللہ حق و اننی
لا الھۃ الاحجار اول تارک
وشمرت عن ساقی الازارمھا جرا
اجوب الیک الوعث بعد الرکادک
لا صحب نیر الناس نفساو والدا
رسول ملیک الناس فوق الجائک
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے چونکہ میں پتھر کے معبودین کو سب سے پہلے ترک کرچکا ہوں اور اپنی پنڈلیوں سے شلوار اوپر کرلی ہے میں سختیوں اور مشقتوں کو روندتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں میں اس شخص کی صحبت میں رہوں گا جو اپنی ذات اور ولدیت میں سب سے افضل ہے وہ رسول ہے اور لوگوں پر اس کی حکمرانی ہے۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمرو ! مرحبا میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ مجھے اپنی قوم کی طرف روانہ کردیں یا اللہ میرے ذریعے ان پر احسان فرمائے آپ نے مجھے بھیج دیا اور مجھے نصیحت کی۔ تمہیں مہربانی اور نرمی سے کام لینا چاہیے بات سچی کرنا تندخو، متکبر اور حاسد نہیں ہونا، میں اپنی قوم کے پاس آگیا اور کہا : اے نبی رفاعہ (رح) بلکہ اے قبیلہ کی جماعت ! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور بتوں کو چھوڑنے کو کہتا ہو میں تمہیں بیت اللہ کے حج رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ جس نے میری دعوت قبول کی اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے دوزخ ہے اے جہینہ کی جماعت ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہترین قوم بنایا ہے۔ جاہلیت اور اس کے رسول کو ناپسند کیا ہے جو کہ عربوں میں مشہور ہیں بلاشبہ عرب دوسگی بہنوں کو نکاح میں جمع کرلیتے ہیں اور حرمت والے مہینوں میں جنگیں کرتے ہیں آدمی اپنے باپ کی منکوحہ سے شہوت پوری کرلیتا ہے لہٰذا اس نبی مرسل کی دعوت کو قبول کرو تمہیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں میسر آئیں گی میرے پاس ان میں سے صرف ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اے عمرو بن مرہ ! اللہ تمہاری زندگی میں بدمزگی لائے کیا تم ہمیں اپنے معبود ان کے چھوڑنے کا حکم دیتے ہوتا کہ ہم اپنی جمعیت میں تفرقہ ڈالیں اپنے آباء کے دین کی مخالفت کریں عمدہ اخلاق ترک کریں صرف ایک قریشی کے کہنے پر جو اہل تہامہ میں سے ہے ؟ اس میں کوئی پسندیدگی اور بھلائی نہیں پھر اس خبیث نے یہ اشعار پڑھے :
ان ابن مرب قدانی بمقالۃ
لیست مقالۃ من یرید صلاحا
انی لاحسب قولہ وفعالہ
یسومساوان طال الزمان ذبساحآ
لیسفہ الا شیاخ ممن قدمضی
من رام ذالک لا اصاب فلاحا
ابن مرہ ایک بات لے کر آیا ہے جو مجھے کسی مصلح کا قول نہیں لگتا میں تو اس کے قول وفعل کو کسی دن کا سمجھتا ہوں اگرچہ زمانہ میں لڑائیاں زیادہ ہوں۔ پر وہ بزرگوں کو بیوقوف بنانا چاہتا ہے اور وہ گزشتہ زمانے کے بزرگ ہیں جو بھی یہ کرنے کا قصد کرے گا کامیابی سے دور رہے گا۔
حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : یہ واضح ہوجائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تو اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کو بدمزگی سے دوچار کرے۔ تیری زبان کو گنگ کرے اور تیری آنکھوں کو اندھا کرے عمرو (رض) کہتے ہیں : اللہ کی قسم یہ خبیث اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس کے دانت گر نہیں گئے چنانچہ اندھا ہوگیا اور اسے کھانے کا ذائقہ نہیں محسوس ہوتا تھا حضرت عمر (رض) اپنی قوم کے چند اسلام قبول کرنے والوں کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انھیں مرحبا کہا اور خراج تحسین پیش کیا پھر ان کے لیے ایک خط تحریر کیا جس کا مضمون یہ ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ خط اللہ تعالیٰ کی طرف سے امان ہے جو اس کے رسول حق اور سچے کی زبان سے جاری ہوا ہے اور کتاب باطق نازل فرمائی جو عمروبن مرہ کے ساتھ جہینہ بن زید کے لیے ہے بلاشبہ زمین کے نشیب و فراز تمہارے لیے ہیں وادیوں کے پوشیدہ اور ظاہری حصے تمہارے لیے ہیں کہ تم ان کی نباتات کو چراؤ اور ان کا پانی پئیو اس شرط پر کہ تم ان کا خمس ادا کرو اور پنجگانہ نمازیں ادا کتو بھیڑبکریاں جب دونوں اکٹھی ہوں ان میں دو بکریاں ہیں اگر الگ الگ ہوں تو ایک ایک بکری ہے کھیتی جو تنے والے بیلوں میں صدقہ نہیں ہے تو وارد پر صدقہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان گواہ ہے۔ (رواہ کتاب قیس بن شماس الرویانی وابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔