HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37310

37300- عن سالم أبي النضر قال: لما كثر المسلمون في عهد عمر ضاق بهم المسجد فاشترى عمر ما حول المسجد من الدور إلا دار العباس بن عبد المطلب وحجر أمهات المؤمنين، فقال عمر للعباس: يا أبا الفضل! إن مسجد المسلمين قد ضاق بهم وقد ابتعت ما حوله من المنازل نوسع به على المسلمين في مسجدهم إلا دارك وحجر أمهات المؤمنين، فأما حجر أمهات المؤمنين فلا سبيل إليها، وأما دارك فبعنيها بما شئت من بيت مال المسلمين أوسع بها في مسجدهم! فقال العباس: ما كنت لأفعل، قال فقال له عمر: اختر مني إحدى ثلاث: إما أن تبعنيها بما شئت من بيت مال المسلمين. وإما أن أخطك حيث شئت من المدينة وأبنيها لك من بيت مال المسلمين، وإما أن تصدق بها على المسلمين فتوسع بها في مسجدهم، فقال: لا ولا واحدة منها، فقال عمر: اجعل بيني وبينك من شئت، فقال أبي بن كعب، فانطلقا إلى أبي فقصا عليه القصة، فقال أبي إن شئتما حدثتكما بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقالا: حدثنا! فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله أوحى إلى داود أن ابن لي بيتا أذكر فيه، فخط له هذه الخطة بيت المقدس فإذا تربيعها يزريه بيت رجل من بني إسرائيل فسأله داود أن يبيعه إياه فأبى فحدث داود نفسه أن يأخذه منه فأوحى الله إليه: يا داود! أمرتك أن تبني لي بيتا أذكر فيه فأردت أن تدخل في بيتي الغصب وليس من شأني الغصب وإن عقوبتك أن لا تبنيه؛ قال: يا رب! فمن ولدي؟ قال: من ولدك؟ فأخذ عمر بمجامع ثياب أبي بن كعب وقال: جئتك بشيء فجئت بما هو أشد منه لتخرجن مما قلت، فجاء يقوده حتى أدخله المسجد فأوقفه على حلقة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم أبو ذر: فقال: إني نشدت الله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر حديث بيت المقدس حين أمر الله داود أن يبنيه إلا ذكره! فقال أبو ذر: أنا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال آخر: أنا سمعته وقال آخر: أنا سمعته يعني من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال فأرسل أبيا، قال وأقبل أبي على عمر فقال: يا عمر! أتتهمني على حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال عمر: يا أبا المنذر! لا والله ما اتهمتك عليه ولكني كرهت أن يكون الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير ظاهر، وقال عمر للعباس: اذهب فلا أعرض لك في دارك! فقال العباس: أما إذا فعلت هذا فأنا قد تصدقت بها على المسلمين أوسع بها عليهم في مسجدهم، فأما وأنت تخاصمني فلا، فخط عمر له داره التي هي له اليوم، وبناها من بيت مال المسلمين."ابن سعد، كر وسنده صحيح إلا أن سالما أبا النضر لم يدرك عمر".
٣٧٢٩٩۔۔۔ سالم ابونضر کی ہدایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے دور میں جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی اور مسجد تنگ پڑنے لگی حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس کے گھر کے علاوہ اور امہات المومنین کے حجروں کے علاوہ بقیہ گھر مسجد میں توسیع کرنے کی غرض سے خرید لیے حضرت عمر (رض) عباس (رض) سے فرمایا : اے ابولفضل ! مسجد مسلمانوں کو تنگ پڑگئی ہے اس کی خاطر میں نے مسجد کے آس پاس کے گھر خرید لیے ان میں آپ کا گھر اور امہات المومنین کے حجرے باقی رہ گئے ہیں رہی بات حجروں کی سو ان کے خریدنے میں کوئی گنجائش نہیں رہا آپ کا گھر تو آپ سرکاری خزانہ میں سے قیمت کے کر مجھے بیچ دیں تاکہ اسے بھی مسجد میں شامل کرکے توسیع کرلی جائے۔ عباس (رض) نے جواب دیا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس تین اختیارات ہیں ان میں سے ایک اپنے لیے پسند کرلو۔ یا تو سرکاری مال میں سے جس چیز کے بدلہ میں چاہو مجھے بیچ دو یا مدینہ میں تم جہاں چاہو بتاؤ میں سرکاری مال سے تمہارے لیے جگہ خرید کر گھر تعمیر کروادوں گا یا مسلمانوں پر صدقہ کردو تاکہ مسجد میں توسیع ہوسکے۔ عباس (رض) نے ٹکا سا جواب دیا اور کہا ان میں سے ایک اختیار بھی مجھے پسند نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر کسی کو منصف مقرر کرو جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کردے۔ عباس (رض) نے منصف کے طور پر حضرت ابی بن کعب (رض) کا نام لیا دونوں حضرات ابی (رض) کے پاس تشریف لے گئے اور پورا قصہ انھیں سنایا ابی (رض) نے کہا : تم اگر چاہو تو میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے دونوں نے حدیث سننے کی فرمائش کی ابی (رض) بولے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے دوؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل کی کہ میرے لیے ایک گھر بناؤ جس میں میرا ذکر کیا جائے چنانچہ داؤد (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی جگہ میں خطوط کھینچے ناپ تول کی جگہ میں ایک شخص کا گھر پڑتا تھا داؤد (علیہ السلام) نے اس سے کہا : یہ گھر مجھے بیچ دو لیکن اس نے بیچنے سے انکار کردیا داؤد (علیہ السلام) نے زبردستی اس کا گھر ہتھیا کر بیت المقدس میں شامل کرنا چاہا تاہم اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی کہ میں نے تمہیں گھر بنانے کا حکم دیا ہے جس میں میرا ذکر کیا جائے اور تم کسی کا گھر غصب کرکے اس میں شامل کرنا چاہتے ہو جو میرے گھر کے شایان شان نہیں۔ حضرت عمر (رض) ابی (رض) کو پکڑ کرلیتے آئے اور فرمایا : میں تمہارے پاس ایک مسئلہ لے کر آیا اور تم نے اس پر شدت کا مظاہرہ کیا بہرحال تمہیں اس کی سچائی سے بازیاب ہونا ہوگا عمر (رض) ابی (رض) کو کھینچے ہوئے مسجد میں لے آئے اور مسجد میں صحابہ کرام (رض) کا ایک حلقہ بیٹھا ہوا تھا ان میں حضرت ابوذغفاری (رض) بھی تھے عمر (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو واسطہ دیتا ہوں جس نے بہت المقدس والی حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بیت المقدس کے تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس نے یہ سنی ہو وہ بیان کرے۔ ابوذر (رض) بولے : میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے دوسرا بولا میں نے بھی سنی ہے تیسرا بولا : میں نے بھی سنی ہے عمر (رض) نے حضرت ابی (رض) کو چھوڑ دیا پھر ابی (رض) نے حضرت عمر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر کہا : آپ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث پر تہمت زدہ کرنا چاہتے ہیں ؟ عمر (رض) نے فرمایا : اے ابومنذر ! اللہ کی قسم میں تمہیں تہمت نہیں لگانا چاہتا ، لیکن مجھے اعتراض نہیں کرتا عباس (رض) نے فرمایا : جب آپ نے یہ کیا ہے میں بھی اس گھر کو مسلمانوں کے لیے صدقہ کرتا ہوں تاکہ مسلمانوں کی مسجد میں توسیع ہوجائے رہی بات آپ کی خدمت کی خصوصیت کی (یعنی کیس لڑ کر اگر آپ لینا چاہیں) تو آپ کو اس کا اختیار ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے عباس (رض) کیلئے ایک گھر بنایا جو آج تک باقی ہے حضرت عمر (رض) نے وہ گھر سرکاری مال سے بنوایا تھا۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر وسندہ صحیح الاان سالما اباالنصرلم یدرک عمر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔